کتاب: 477 سوال و جواب برائے نکاح و طلاق - صفحہ 188
دودھ پیاہو،یا اس لڑکی نے اس کی ماں کا دودھ پیا ہو، پھر بوجہ رضاعت حرام ہو جائے گی، اگر رضاعت ثابت نہ ہو تو پھر ان کے مابین ایسا کوئی تعلق نہیں، لہٰذا اس سے شادی کر سکتا ہے۔واللہ اعلم۔(الفوزان:المنتقيٰ:151) 195۔بیوی کی وفات کے بعد اس کی بیٹی سے شادی کرنے کا حکم۔ زیر پرورش لڑکی بھی من جملہ ان عورتوں میں سے ہے جن سے نکاح حرام ہے، جیسا کہ قرآن مجید میں مذکورہے”رَبِيبَہ“(زیر پرورش لڑکی)بیوی کی بیٹی یا اس کی اولاد کی بیٹی کو کہتے ہیں اور اس سے پیدا ہونے والی ساری بیٹیاں، نسل درنسل ان کا یہی حکم ہے وہ ماں کے خاوند کی”رَبِيبَہ“ہی کہلائےگی،اس سے نکاح جائز نہیں ہے،اگر ایسا نکاح ہو جائے تو عقد باطل ہو گا، جمہور اہل علم کا یہی موقف ہے۔ فرمان باری تعالیٰ ہے: ((اللَّاتِي فِي حُجُورِكُم)) (النساء:23) ”جو تمھاری گود میں ہیں۔“ یہ ایسی صفت ہے جس کا کوئی مفہوم نہیں، یہ محض بیان واقع ہے، اصل بات یہ ہے کہ جس بیوی سے دخول کیا ہے اس کی بیٹی یا اس کے بیٹے کی بیٹی ماں کے خاوند کے لیے حرام ہے، اگرچہ ہمیشہ اس کے زیر پرورش نہ بھی رہے اور چاہے اس کے گھر میں مقیم بھی نہ ہو، اور چاہے وہ اس کے طلاق دینے کے بعد دوسرے خاوند سے پیدا ہوئی ہو، وہ اس کے لیے حلال نہیں ہو سکتی، کیونکہ اس نے اس کی ماں سے دخول کیا ہوا ہے، یہ جمہور علماء کا قول ہے اور آیت میں مذکوروصف کے مفہوم کے مطابق کسی کا فتوی نہیں سوائے قلیل لوگوں کے، اور ان کا قول شاذ ہے، اس پر عمل نہیں کیا جا سکتا،واللہ اعلم۔(الفوزان:المنتقيٰ:157)