کتاب: 477 سوال و جواب برائے نکاح و طلاق - صفحہ 175
178۔نكاح وٹہ سٹہ کا حکم وٹہ سٹہ باطل ہے۔جناب نافع رحمۃ اللہ علیہ حضرت عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہ سے بیان کرتے ہیں: ((عنِ ابنِ عُمَرَ رَضِيَ اللّٰهُ عنهما: ((أنَّ رَسولَ اللّٰه صلَّى اللّٰه عليه وسلَّم نهى عَنِ الشِّغَارِ))، والشِّغارُ: أن يزوِّجَ الرَّجُلُ ابنَتَه على أن يزوِّجَه الآخَرُ ابنَتَه، ليس بينهما صَداقٌ )) [1] ”یقیناً رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے وٹہ سٹہ سے منع فرمایا ہے،وٹہ سٹہ یہ ہے کہ ایک آدمی اس شرط پر اپنی بیٹی کا رشتہ دے کہ دوسرا اُسے اپنی بیٹی کا رشتہ دے اور ان کے درمیان حق مہر نہ ہو۔“ وٹہ سٹہ کی یہی حقیقت ہے جس طرح کہ حدیث میں اس کی تفسیر کردی گئی ہے،چاہے یہ وضاحت نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی طرف سے ہویا نافع کی جانب سے،وہ راوی حدیث ہے اور اس کی تفسیر ظاہر کے خلاف نہیں ہے اور وہ حسب ذیل ہے: ”آدمی اپنی بیٹی کانکاح اس شرط پر کرے کہ دوسرا بھی اپنی بیٹی کا نکاح اس سے کرے،اور ان کے مابین حق مہر نہ ہو،چاہے حق مہر سے سکوت اختیار کیاہو یا اس کے نہ ہونے کی شرط عائد کی ہو،چاہے ان دونوں نے یہ وضاحت کی ہو کہ دونوں لڑکیاں ایک دوسری کا حق مہر معاف کردیں گی یا یہ توضیح نہ کی ہو ،یا انھوں نے حق مہر مع فرج کی شرط عائد کی ہو یا نہ کی ہو۔“ (محمد بن ابراهيم آل شيخ :الفتاويٰ والرسائل::10/114) [1] ۔ متفق عليه ۔صحيح البخاري (5112) صحيح مسلم(57/1415)