کتاب: 477 سوال و جواب برائے نکاح و طلاق - صفحہ 159
نیز وہ حدیث جسے امام احمد، ترمذی اور ابن ماجہ رحمۃ اللہ علیہ نے عبد اللہ بن عمر رضی اللہ عنہ سے بیان کیا ہے کہ غیلان ثقفی رضی اللہ عنہ مسلمان ہوا اور اس کے نکاح میں دور جاہلیت کی دس عورتیں تھیں، وہ بھی اس کے ساتھ ہی مسلمان ہو گئیں تو نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے اسے حکم دیا کہ ان میں سے چار کا انتخاب کرے۔[1] (اللجنة الدائمة: 1294) 166۔پانچویں شادی کی سزا۔ پانچویں شادی کرنے والا رجم کیا جائے گا یا نہیں؟اور اس کی اولاد و زنا کی ہو گی یا حلال کی؟شرعی دلائل اس بات پر دلالت کرتے ہیں کہ سوائے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے کسی کے لیے بھی چارسے زیادہ شادیاں جائز نہیں،اس پر علماء کا اجماع ہے۔ شیعہ کی ایک جماعت نے اس میں اختلاف کیا ہے لیکن شیعہ کا اہل سنت سے اختلاف کا کوئی معنی نہیں رکھتا،اب رہا اس کا حکم جس نے پانچواں نکاح کر لیا اور اس بچے کا حکم جو اس نکاح کے نتیجہ میں پیدا ہوا،اس کے لیے شرعی قاضی کی طرف رجوع کیا جائے گا،وہ احوال وظروف اور ایسے آدمی کے بارے قانون کو مد نظر رکھتے ہوئے اسلامی شریعت کی روشنی میں فیصلہ کرے گا۔(اللجنة الدائمة:2757) 167۔تعددزوجات کےمتعلق ایک مسئلہ۔ کیا آدمی پر لازم ہے کہ دوسری شادی کرنے سے پہلے پہلی بیوی کی رضا وخوشنودی حاصل کرے؟ [1] صحيح ۔ سنن الترمذي رقم الحديث (1128)