کتاب: 477 سوال و جواب برائے نکاح و طلاق - صفحہ 152
159۔آدمی کاایسی چیز استعمال کرنا جس سے نکاح کی خواہش کم پڑ جائے۔ اس میں کوئی حرج نہیں لیکن یہ جائز نہیں کہ وہ کوئی ایسا کام کرے جس سے یہ خواہش بالکل ختم ہو جائے،اسے کم کرنے میں کوئی مضائقہ نہیں کیونکہ اس میں مصلحت ظاہر ہے،اور نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے بھی فرمایا ہےکہ روزہ شہوت کو کم کر دیتا ہے۔فرمایا: ((يَا مَعْشَرَ الشَّبَابِ، مَنِ اسْتَطَاعَ مِنْكُمُ البَاءَةَ فَلْيَتَزَوَّجْ، فَإِنَّهُ أَغَضُّ لِلْبَصَرِ وَأَحْصَنُ لِلْفَرْجِ، وَمَنْ لَمْ يَسْتَطِعْ فَعَلَيْهِ بِالصَّوْمِ، فَإِنَّهُ لَهُ وِجَاءٌ))[1] ”اے نوجوانوں کی جماعت!تم میں سے جو بھی اخراجات کی گنجائش رکھتا ہے وہ شادی کرے،اور جو طاقت نہیں رکھتا اس پر لازم ہے کہ روزہ رکھے،کیونکہ روزہ اس کی شہوت کو توڑنے والا ہے۔“ (ابن باز:مجموع الفتاويٰ والمقالات:21/188) 160۔عدم ولادت کی خاطر رحم نکلوادینا۔ جب کوئی ضرورت ہو پھر تو کوئی حرج نہیں، ورنہ اسے چھوڑنا واجب ہے، کیونکہ شارع نے افزائش نسل کی ترغیب دلائی ہے اور امت کو بڑھانے کے اسباب کی دعوت دی ہے، لیکن اگر کوئی ضرورت ہو تو کوئی مضائقہ نہیں، جیسا کہ شرعی مصلحت کی بنا پر وقتی طور پر مانع حمل ادویہ کا استعمال جائز ہے۔ (ابن باز:مجموع الفتاويٰ والمقالات:21/197) [1] متفق عليه،صحيح البخاري (1905) صحيح مسلم(1/1400)