کتاب: 477 سوال و جواب برائے نکاح و طلاق - صفحہ 146
”جب آدمی اپنی بیوی کو بستر کی طرف بلائے اور وہ آنے سے انکار کردے تو صبح ہونے تک فرشتے اس پر لعنت کرتے رہتے ہیں۔“ اور صحیح مسلم ہے: ((كَانَ الَّذِي فِي السَّمَاءِ سَاخِطًا عَلَيْهَا حَتَّى يَرْضَى عَنْهَا))[1] ”آسمان والا اس عورت پر ناراض ہوتا ہے، یہاں تک کہ اس کا خاوند راضی نہ ہو جائے۔“(اللجنة الدائمة: 17035) 150۔جامعہ سے فارغ ہونے تک شادی شدہ لڑکی کا بچے کی ولادت میں تاخیر کرنا۔ تولید میں تاخیر کرنا اس کا اور اس کے خاوند کا حق ہے، اگر وہ خاص مدت اور کسی مقصد کے حصول کے لیے اس میں تاخیر کرتے ہیں تو کوئی حرج نہیں، صحابہ کرام رضوان الله عنہم اجمعین بھی نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے زمانے میں عزل کیا کرتے تھے،جس طرح کہ حدیث جابر رضی اللہ عنہ میں ہے: (كُنَّا نَعْزِلُ عَلَى عَهْدِ النَّبِيِّ ‏‏صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ‏وَالْقُرْآنُ يَنْزِلُ))[2] ”ہم عزل کرتے تھے اور قرآن نازل ہورہا تھا۔“ عزل تاخیر تولید کا سبب ہے، کیونکہ اس کا مطلب یہ ہے کہ جب آدمی اپنی بیوی کے پاس آئے اور پانی نکلنے کے قریب ہو تو اس سے علیحدہ ہو جائے۔ [1] ۔صحيح،صحيح مسلم،رقم الحديث (121/1436) [2] ۔ متفق عليه۔صحيح البخاري(5208) صحيح مسلم(136/1440)