کتاب: 477 سوال و جواب برائے نکاح و طلاق - صفحہ 145
سنت ہے، واجب سنت پر مقدم ہوتا ہے، ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ((إِذَا دعَا الرَّجُلُ امْرأَتَهُ إِلَى فِرَاشِهِ فلَمْ تَأْتِهِ فَبَات غَضْبانَ عَلَيْهَا؛ لَعَنتهَا الملائكَةُ حَتَّى تُصْبحَ))[1] ”جب آدمی اپنی بیوی کو بستر کی طرف بلائے اور وہ انکار کردے اورخاوند اس پر ناراضگی کے عالم میں رات گزارے تو صبح ہونے تک فرشتے اس عورت پر لعنت کرتے رہتے ہیں۔“ (حتى ترجع)[2] ”یہاں تک کہ وہ لوٹ آئے۔“ 149۔عورت کا بلاعذر خاوند کے پاس نہ آنا۔ عورت کے لیے جائز نہیں کہ جب اس کا خاوند خواہش ظاہر کرے تو نافرمانی کرے سوائے ایسے عذر کے جو شرعاًمقبول ہے جیسا کہ حیض ہے،صحیحین میں ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ((إذا باتت المرأة مهاجرة فراش زوجها لعنتها الملائكة حتى ترجع))[3] ”جب عورت اپنے خاوند کے بستر کو چھوڑتے ہوئے رات گزارے تو فرشتے اس پر لعنت بھیجتے رہتے ہیں، یہاں تک کہ وہ لوٹ آئے۔“ اور بخاری کے الفاظ یہ ہیں: ((إذا دعا الرجل إمراته الى فراشه فأبت أن تجى لعنتها الملائكة حتى تصبح))[4] [1] متفق عليه۔صحيح البخاري(3237) صحيح مسلم(120/1436) [2] صحيح البخاري ،رقم الحديث(5194) [3] متفق عليه۔صحيح البخاري(5194) صحيح مسلم(120/1436) [4] متفق عليه۔صحيح البخاري(3237) صحيح مسلم(120/1436)