کتاب: 477 سوال و جواب برائے نکاح و طلاق - صفحہ 144
نے بیوی سے دبر میں جماع کیا۔“ اسے احمد اور ابن ماجہ نے روایت کیا ہے۔(اللجنة الدائمة:1268) 147۔بیوی کی پچھلی جانب سے اگلی جانب جماع کرنا۔ خاوند کے لیے جائز ہے کہ اس کی پچھلی جانب سے جماع کرے جبکہ جماع اگلی جانب میں ہو نہ کہ پچھلی جانب میں، اور کسی صورت بھی پچھلی جانب میں جماع حرام ہے۔فرمان باری تعالیٰ ہے: ((نِسَاؤُكُمْ حَرْثٌ لَّكُمْ فَأْتُوا حَرْثَكُمْ أَنَّىٰ شِئْتُمْ ۖ وَقَدِّمُوا لِأَنفُسِكُمْ ۚ وَاتَّقُوا اللّٰهَ وَاعْلَمُوا أَنَّكُم مُّلَاقُوهُ ۗ وَبَشِّرِ الْمُؤْمِنِينَ)) ”تمھاری عورتیں تمھارے لیے کھیتی ہیں،سواپنی کھیتی میں جس طرح چاہو آؤ اور اپنے لیے آگے(سامان) بھیجواور اللہ سے ڈرو اور جان لو کہ یقیناً تم اس سے ملنے والے ہو اور ایمان والوں کو خوشخبری دیدے ۔“ اور فرمان نبوی ہے: ((ملعون من أتى امرأة في دبرها))[1] ”وہ آدمی ملعون ہے جو اپنی بیوی سے دبر میں جماع کرتا ہے۔“(اللجنة الدائمة:7310) 148۔بیوی کا قیام اللیل کا عذر کرتے ہوئے خاوند کے بستر پر نہ آنا۔ یہ عذر نہیں ہے کیونکہ خاوند کا حق واجب ہے، رات کی نفلی نماز اور تسبیح یہ [1] صحيح ۔سنن أبي داود ،رقم الحديث (2162)مسند احمد(2/44)