کتاب: 477 سوال و جواب برائے نکاح و طلاق - صفحہ 143
اپنی بیوی کے پاس اس کی اگلی جانب میں آئے، پچھلی جانب سے جبکہ عورت منہ کے بل اوندھی ہو تو بچہ بھینگا پیدا ہوتا ہے، اور آیت کے ساتھ وضاحت کردی کہ آدمی کے لیے ہر کیفیت میں بیوی کے پاس آنا جائز ہے، پشت کے بل چت لیٹی ہو یا اوندھے منہ لیٹی ہو جبکہ وطی اس کی اگلی جانب ہو، اس کی دلیل فہم صحابہ ہے جو کہ عرب تھے۔اللہ تعالیٰ نے عورتوں کو کھیتی سے تعبیر کیا ہے، جس سے اولاد پیدا ہوتی ہے اور دبر میں وطی سے تو اولاد پیدا نہیں ہوتی،اور سبب نزول میں جو کہ حمل اور بچے کے بھینگے پیدا ہونے کا ذکر ہے، حالانکہ حمل اور بچہ دبر میں وطی سے ہوتے ہی نہیں ہیں،بھینگا ہوتا ہے نہ تندرست ، امام احمد اور ترمذی اُم سلمہ رضی اللہ عنہا سے بیان کرتے ہیں اور وہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے اللہ تعالیٰ کے فرمان کے متعلق بیان کرتی ہیں فرمایا:”سوراخ ایک ہی ہو۔“[1] اور فرمایا:یہ حدیث حسن درجہ کی ہے۔بہت زیادہ احادیث میں بیوی سے دبر میں وطی کی ممانعت وارد ہوئی ہے،ان میں سےایک وہ ہے جسے امام احمد رحمۃ اللہ علیہ اور ابو داؤد رحمۃ اللہ علیہ نے ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ سے بیان کیا ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ((ملعون من أتى امرأة في دبرها))[2] ”وہ شخص ملعون ہے جو اپنی بیوی سے دبر میں وطی کرتا ہے۔“ اور ایک روایت میں ہے: ((لَا يَنْظُرُ اللّٰهُ عَزَّ وَجَلَّ إِلَى رَجُلٍ جَامَعَ امْرَأَتَهُ فِي دُبُرِهَا))[3] ”اللہ تعالیٰ ایسے آدمی کی طرف نظر رحمت سے نہیں دیکھیں گے جس [1] صحيح سنن الترمذي ،رقم الحديث (2979) [2] صحيح ۔سنن أبي داود ،رقم الحديث (2162)مسند احمد(2/44)  [3] صحيح ۔سنن ابن ماجه ،رقم الحديث(1923)