کتاب: 477 سوال و جواب برائے نکاح و طلاق - صفحہ 142
خون حیض ختم ہو جائے اور وہ پاک ہو جائے یعنی غسل کرے، اور جس نے اس کے غسل کرنے سے پہلے وطی کرلی تو گنہگار ہو گا اور اس پر کفارہ لاگو ہو گا،اگر عورت حالت حیض میں جماع کی وجہ سے یا خون بند ہونے کے بعد غسل سے پہلے جماع کی وجہ سے حاملہ ہو گئی تو اس کے بچے کو یہ نہ کہا جائے کہ وہ حرامی ہے بلکہ شرعاً انہی کا بچہ ہے۔(اللجنة الدائمة:1844) 146۔بیوی کی دبر میں جماع کرنا۔ بیوی کی دبر میں جماع کرنا حرام ہے، اور جس نے لاعلمی میں ایسا کیا تو وہ معذور ہے اور اسے معافی ہے، لیکن جونہی پتہ چلے رک جائے، بیوی کی دبر میں جماع کے حرام ہونے کی دلیل وہ حدیث ہے جسے امام احمد، بخاری اور مسلم رحمۃ اللہ علیہ نے حضرت جابر بن عبد اللہ رضی اللہ عنہ سے روایت کیا کہ یہودی کہا کرتے تھے کہ جب عورت سے پچھلی جانب سے اگلی جانب جماع کیا جائے اور پھر وہ حاملہ ہو جائے تو بچہ بھینگا پیدا ہوتا ہے۔“،کہتے ہیں پھر یہ آیت نازل ہوئی۔[1] اور امام مسلم رحمۃ اللہ علیہ نے یہ اضافہ کیا ہے: ((إِنْ شَاءَ مُجَبِّيَةً، وَإِنْ شَاءَ غَيْرَ مُجَبِّيَةٍ، غَيْرَ أَنَّ ذَلِكَ فِي صِمَامٍ وَاحِدٍ))[2] ”اگر چاہے تو بیوی اوندھے منہ ہو اور اگر چاہے تو وہ اوندھے منہ نہ ہو، لیکن جماع ایک ہی سوراخ میں ہونا چاہیے۔“ اللہ تعالیٰ نے یہودیوں کی اس بات میں تکذیب کردی ہے کہ آدمی جب [1] متفق عليه،صحيح البخاري(4528) صحيح مسلم(117/1435) [2] صحيح ۔صحيح مسلم(119/1435)