کتاب: 477 سوال و جواب برائے نکاح و طلاق - صفحہ 141
”اورتجھ سے حیض کے متعلق پوچھتے ہیں،کہہ دے وہ ایک طرح کی گندگی ہے،سوحیض میں عورتوں سے علیحدہ رہو اور ان کے قریب نہ جاؤ،یہاں تک کہ وہ پاک ہوجائیں۔“ اور جس نے اس کاارتکاب کرلیا اس پر لازم ہے کہ اللہ تعالیٰ سے استغفار کرے اور توبہ کرے،اور یہ بھی ضروری ہے کہ آدھا دینار صدقہ کرے،جس طرح کے امام احمد اور اصحاب سنن نے حسن سند سے حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہ سے روایت ذکر کی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: ((فِي اَلَّذِي يَأْتِي اِمْرَأَتَهُ وَهِيَ حَائِضٌ-. قَالَ: { يَتَصَدَّقُ بِدِينَارٍ, أَوْ نِصْفِ دِينَارٍ))[1] ”اس آدمی کے بارے میں جو حالتِ حیض میں اپنی بیوی سے جماع کرتا ہے،ایک دینار یا آدھا دینار صدقہ کرے۔“ تو دونوں میں سے جو بھی دے کفایت کر جائےگا اور یہ جائز نہیں کہ طہر کے بعد اس سے جماع کرے،یعنی خون بندہونے کے بعد اور بیوی کے غسل کرنے سے پہلے ، کیونکہ ارشاد باری تعالیٰ ہے: ((وَلَا تَقْرَبُوهُنَّ حَتَّىٰ يَطْهُرْنَ ۖ فَإِذَا تَطَهَّرْنَ فَأْتُوهُنَّ مِنْ حَيْثُ أَمَرَكُمُ اللّٰهُ ۚ)) (البقرة:222) ”اور ان کے قریب نہ جاؤ، یہاں تک کہ وہ پاک ہو جائیں، پھر جب وہ غسل کر لیں تو ان کے پاس آؤ جہاں سے تمھیں اللہ کا حکم دیا ہے۔“ اللہ سبحانہ وتعالیٰ نے حائضہ سے وطی کی اجازت نہیں دی حتی کہ اس کا [1] ۔ صحيح ۔سنن أبي داود ،رقم الحديث (462) سنن الترمذي رقم الحديث (136) سنن النسائي،رقم الحديث (289)سنن ابن ماجه رقم الحديث(640)