کتاب: 477 سوال و جواب برائے نکاح و طلاق - صفحہ 140
143۔خوش طبعی یا مباشرت کے دوران بیوی کے پستان چوسنا۔ بڑی عمر میں رضاعت باعثِ حرمت نہیں ہے سو یہ فعل ناجائز ہے،یعنی آدمی کا اپنی بیوی کے پستان چوسنا،اس کو دودھ ہو یا نہ ہو،لیکن اگر دودھ اتر آئے اور وہ پی لے تو بیوی حرام نہیں ہوگی اور نہ ہی نکاح فسخ ہوگا۔واللہ اعلم۔ (ابن جبرين :الفتاويٰ:11/3) 144۔حالتِ حیض میں عورت سے مباشرت کرنا۔ آدمی کے لیے حالتِ حیض میں بیوی سے ہم بستری حرام ہے،لیکن یہ جائز ہے کہ فرج اور دبر کے علاوہ اس سے مباشرت کرے۔فرمان نبوی صلی اللہ علیہ وسلم ہے: ((اصْنَعُوا كُلَّ شَيْءٍ إِلا النِّكَاحَ)) [1] ”ہرچیز کروسوائے جماع کے۔“ اس کے لیے مستحب ہے کہ مباشرت کے وقت بیوی کو لنگوٹ پہننے کا حکم دے اور پھر اس سے اوپر اوپر مباشرت کرے،حضرت عائشہ رضی اللہ عنہ فرماتی ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم مجھے حکم دیتے،میں لنگوٹ باندھتی،آپ صلی اللہ علیہ وسلم مجھ سے مباشرت کرتے اور میں حیض میں ہوتی۔(اللجنة الدائمة:8618) 145۔حائضہ عورت سے جماع کا کفارہ۔ حائضہ عورت سے شرمگاہ میں وطی کرنا حرام ہے۔فرمان باری تعالیٰ ہے: ((وَيَسْأَلُونَكَ عَنِ الْمَحِيضِ ۖ قُلْ هُوَ أَذًى فَاعْتَزِلُوا النِّسَاءَ فِي الْمَحِيضِ ۖ وَلَا تَقْرَبُوهُنَّ حَتَّىٰ يَطْهُرْنَ)) (البقرة:222) [1] ۔صحيح ۔صحيح مسلم ،رقم الحديث(16/302)