کتاب: 477 سوال و جواب برائے نکاح و طلاق - صفحہ 137
((بِسْمِ اللّٰهِ ، اللَّهُمَّ جَنِّبْنَا الشَّيْطَانَ ، وَجَنِّبْ الشَّيْطَانَ مَا رَزَقْتَنَا)) ”اللہ کے نام سے شروع کرتا ہوں،اے اللہ!ہم کو شیطان سے محفوظ رکھنا اور اسے بھی جو تو ہمیں عطا کرے۔“ یہ مؤخر الذکر دعا ہر دفعہ پڑھے،چاہے سہاگ رات ہویا اس کے بعد،کیونکہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کا ارشاد ہے: ((لَوْ أَنَّ أَحَدَهُمْ إِذَا أَرَادَ أَنْ يَأْتِيَ أَهْلَهُ قَالَ بِاسْمِ اللّٰهِ اللَّهُمَّ جَنِّبْنَا الشَّيْطَانَ وَجَنِّبْ الشَّيْطَانَ مَا رَزَقْتَنَا ، فَإِنَّهُ إِنْ يُقَدَّرْ بَيْنَهُمَا وَلَدٌ فِي ذَلِكَ لَمْ يَضُرَّهُ شَيْطَانٌ أَبَدًا))[1] جب کوئی اپنی بیوی کے پاس آئے اور کہے: ((بِسْمِ اللّٰهِ ، اللَّهُمَّ جَنِّبْنَا الشَّيْطَانَ.....))”اگران کے درمیان بچہ مقدرہو گیا تو شیطان کبھی بھی اسے نقصان نہیں پہنچا سکے گا۔“ یہ بسم اللہ اور دعا ان اسباب میں سے ہے جن کی بدولت بچہ شیطان کی ایذاءرسانی سے مامون و محفوظ رہتا ہے۔ (ابن عثيمين :نور علي الدرب،ص:65) 139۔سہاگ رات تازہ دودھ کا پیالہ پینا۔ اگر پہلی رات اس نیت سے دودھ کا پیالہ پیتا ہے کہ یہ اللہ تعالیٰ کی عبادت ہے اور قرب الٰہی کاذریعہ ہے تو یہ یقیناً بدعت ہے،کیونکہ اس کا عبادت اور باعث تقرب ہونا نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے ثابت نہیں،اوراگر دودھ کوبطور غذا استعمال کرے اور اس لیے کہ یہ ہلکی غذا ہے اور رات شادی کی رات ہے اور وہ پسند نہیں کرتا کہ بیوی کے پاس جائے اور اس کاپیٹ بھرا ہوا ہوتو پھر کوئی حرج نہیں، [1] متفق عليه۔صحيح البخاري(141) صحيح مسلم(116/1434)