کتاب: 477 سوال و جواب برائے نکاح و طلاق - صفحہ 130
دَرَجَةٌ ۗ وَاللّٰهُ عَزِيزٌ حَكِيمٌ)) (البقرة:228) ”اورمعروف کے مطابق ان(عورتوں) کے لیے اسی طرح حق ہے جیسے ان کے اوپر حق ہے، اور مردوں کو ان پر ایک درجہ حاصل ہے، اوراللہ سب پر غالب ، بڑی حکمت والا ہے۔“ (ابن عثيمين :نور علي الدرب،:37) 128۔عورت اپنے خاوند کی بات نہیں سنتی اور کبھی کبھاراس کی اجازت کے بغیر گھر سے باہر چلی جاتی ہے۔ عورت پر لازم ہے کہ معروف طریقے سے اپنے خاوند کی اطاعت کرے،اس پر خاوند کی نافرمانی حرام ہے اور اس کی اجازت کے بغیر گھر سے باہر نکلنا بھی ناجائز ہے۔فرمانِ نبی صلی اللہ علیہ وسلم ہے: ((إِذَا دعَا الرَّجُلُ امْرأَتَهُ إِلَى فِرَاشِهِ فلَمْ تَأْتِهِ فَبَات غَضْبانَ عَلَيْهَا؛ لَعَنتهَا الملائكَةُ حَتَّى تُصْبحَ))[1] ”جب خاوند اپنی بیوی کو بستر کی طرف بلائے اور وہ آنے سے انکار کردے اورخاوند اس پر ناراضگی کے عالم میں رات گزارے تو صبح ہونے تک فرشتے اس عورت پر لعنت کرتے رہتے ہیں۔“ اور فرمایا: ((لَوْ كُنْتُ آمِرًا أحدًا أنْ يَسْجُدَ لأَحَدٍ ؛ لأَمَرْتُ المرأةَ أنْ تَسْجُدَ لِزَوْجِها ، من عِظَمِ حَقِّهِ عليْها))[2] ”اگر میں کسی ایک کو حکم دینے والا ہوتا کہ کسی کو سجدہ کرے تو عورت کو حکم [1] ۔متفق عليه۔صحيح البخاري (3237) صحيح مسلم (120/1436) [2] ۔صحيح سنن الترمذي رقم الحديث (1159)