کتاب: 477 سوال و جواب برائے نکاح و طلاق - صفحہ 127
”سو اللہ سے ڈرو جتنی تم طاقت رکھو۔“ اس آدمی کے حق میں بہت زیادہ وعید آئی ہے جو بیوی کو اس کے خاوند کے حوالے سے بدظن اور خراب کرتاہے،حدیث میں ہے: ((ملعون من خبب امرأة على زوجها))[1] ”ملعون ہے وہ شخص جو کسی عورت کو خاوند کے بارے میں اخلاق باختہ اور نافرمان بنائے۔“ اس حدیث کا معنی یہ ہے کہ بیوی کے اخلاق کو خاوند کے متعلق خراب کرے اور اس کی نافرمانی کا سبب بنے۔بیوی کے گھر والوں پر واجب ہے کہ بیوی اور اس کے خاوند کے مابین خیروصلاح کی تگ ودو کریں کیونکہ اس میں بیوی اور اس کے گھر والوں دونوں کی مصلحت ہے۔(الفوزان :المنتقيٰ:218) 126۔جو عورت اپنے خاوند کے سامنے بآواز بلند بولتی ہے۔ ہم ایسی عورت کے متعلق کہیں گے کہ اس کا اپنے خاوند کے سامنے بلند آواز سے بولنا سوءِ ادب ہے،اس لیے کہ اس کا خاوند اس پر نگران اور محافظ ہے۔عورت کو چاہیے کہ اس کا احترام کرے اور باادب ہوکر اس سے مخاطب ہو،اس طرح ان کے درمیان محبت والفت کی فضا پیداہوگی اور پائیداری رہے گی،جیسا کہ مرد کو بھی چاہیے کہ اس کے ساتھ ایسا ہی سلوک کرے،حسن سلوک کا طرفین سے تبادلہ ہونا چاہیے،فرمان باری تعالیٰ ہے: ((وَعَاشِرُوهُنَّ بِالْمَعْرُوفِ ۚ فَإِن كَرِهْتُمُوهُنَّ فَعَسَىٰ أَن تَكْرَهُوا شَيْئًا وَيَجْعَلَ اللّٰهُ فِيهِ خَيْرًا كَثِيرًا)) (النساء:19) [1] ۔صحيح،سنن أبي داود،رقم الحديث(2175)