کتاب: 477 سوال و جواب برائے نکاح و طلاق - صفحہ 124
صلح کرنے کی تعلیم دی ہے،اسے یہ حکم نہیں دیا کہ وہ اپنے خاوند کو نصیحت کرے یا تنہا چھوڑے یا اسے مارے، کیونکہ یہ ممکن نہیں کہ عورت کا مرد پر کنٹرول ہو،بلکہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے جب کہا گیا کہ ایرانیوں نے کسریٰ کی بیٹی کو بادشاہ بنا لیا ہے تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ((لَنْ يُفْلِحَ قَوْمٌ وَلَّوْا أَمْرَهُمْ امْرَأَةً))[1] ”وہ قوم کبھی کامیاب نہیں ہو سکتی جس نے عورت کو اپنا حکمران بنا لیا۔“ لیکن جب ہم اللہ تعالیٰ کے فرمان کے عموم کو لیتے ہیں: ((فَمَنِ اعْتَدَىٰ عَلَيْكُمْ فَاعْتَدُوا عَلَيْهِ بِمِثْلِ مَا اعْتَدَىٰ عَلَيْكُمْ ۚ وَاتَّقُوا اللّٰهَ وَاعْلَمُوا أَنَّ اللّٰهَ مَعَ الْمُتَّقِينَ)) (البقرة:194) ”پس جو تم پر زیادتی کرے سو تم اس پر زیادتی کرو، اس کی مثل جو اس نے تم پر زیادتی کی ہے اور اللہ سے ڈرو اور جان لو کے بےشک اللہ ڈرنے والوں کے ساتھ ہے۔“ تو کہتے ہیں کہ جب خاوند بیوی کے حقوق کا خیال نہ کرے تو جائز ہے کہ بیوی بھی اس کا حق ادا نہ کرے،حتی کہ وہ اللہ کے حکم پر آجائے، کیونکہ آیت میں عموم ہے: ((فَمَنِ اعْتَدَىٰ عَلَيْكُمْ فَاعْتَدُوا عَلَيْهِ بِمِثْلِ مَا اعْتَدَىٰ عَلَيْكُمْ ۚ)) (البقرة:194) جب خاوند اس کے حق میں کوتاہی پر مصر رہے اور عورت دیکھے کہ اس کےراہ راست پر آنے کی کوئی امید نہیں اور نہ ہی وہ معروف طریقے سے اس کے [1] صحيح بخاري ،رقم الحديث