کتاب: 477 سوال و جواب برائے نکاح و طلاق - صفحہ 122
((وَلَهُنَّ مِثْلُ الَّذِي عَلَيْهِنَّ بِالْمَعْرُوفِ )) (البقرة:228) ”اور معروف کے مطابق ان (عورتوں) کے لیے اسی طرح حق ہے جیسے ان کے اوپر حق ہے۔“ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ((إِنَّ لَكُمْ عَلَى نِسَائِكُمْ حَقًّ))[1] ”تمھاری عورتوں کا تم پر یقیناً حق ہے۔“ نیز فرمایا: ((فَإِمْسَاكٌ بِمَعْرُوفٍ أَوْ تَسْرِيحٌ بِإِحْسَانٍ )) (البقرة:229) ”پھر یا تو اچھے طریقے سے رکھ لینا ہے یا نیکی کے ساتھ چھوڑ دینا ہے۔“ ان کے لیے بھی کئی دلائل ہیں جو خاوند پر لازم کرتے ہیں کہ اپنی بیوی کے بارے اللہ تعالیٰ سے ڈرے اور اس کے حقوق کو ادا کرے،اس کے لیےجائز نہیں کہ بیوی کے کسی بھی حق میں کوتاہی سے کام لے،سوائے شرعی جواز کے، جیسا کہ عورت کی نا فرمانی ہے۔ رہا سائل کا سوال کہ مرد بیوی کو مدتِ مدید تک چھوڑے رکھے اور اس کے حقوق کو پامال کرےتو یہ ظلم و تعدی ہے جو کہ ناجائز ہے جبکہ آدمی تندرست ہو اور شرعی گنجائش بھی نہ ہو،یقیناً یہ اس پر ظلم کر رہا ہے، اس پر لازم ہے کہ اللہ تعالیٰ کے حضور توبہ تائب ہو، اس کے حقوق اداکرے اور سابقہ ظلم و ستم کی اس سے معافی مانگے۔ ہر حال میں معاملہ انتہائی سنگین ہے، ہرگز جائز نہیں کہ وہ اس پر یا اس کی اولاد پر ظلم روارکھے،بلکہ اس پر ضروری ہے کہ رجوع الی اللہ کرےاور راہ راست پر آجائے اگر وہ باز نہ آئے تو حاکم وقت کے پاس معاملہ پیش کیا [1] حسن،سنن الترمذي(1163) سنن ابن ماجه(1851)