کتاب: 477 سوال و جواب برائے نکاح و طلاق - صفحہ 119
117۔خاوند کے بُرے رویے کے پیش نظر اس کی خدمت ترک کردینا۔ خاوند کے لیے جائز نہیں کہ بیوی سے بُرے طریقے سے پیش آئے،کیونکہ فرمان باری تعالیٰ ہے: ((وَعَاشِرُوهُنَّ بِالْمَعْرُوفِ )) (النساء:19) ”ان کے ساتھ اچھے طریقے سے رہو۔“ اور نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کا فرمان ہے: ))وإنَّ لزوْجِك عليْكَ حقًّا))[1] ”اور تیری بیوی کاتجھ پر یقیناً حق ہے۔“ جب خاوندبرےطریقے سے رہتا ہے تو عورت کو چاہیے کہ صبرو تحمل کا مظاہرکرے اور خاوند کے حق کو ادا کرے، تاکہ یہ اجرو ثواب کی مستحق ہو،ہو سکتاہے اللہ تعالیٰ اس کے خاوند کو ہدایت نصیب فرمادے۔ارشادباری تعالیٰ ہے: ))وَلَا تَسْتَوِي الْحَسَنَةُ وَلَا السَّيِّئَةُ ۚ ادْفَعْ بِالَّتِي هِيَ أَحْسَنُ فَإِذَا الَّذِي بَيْنَكَ وَبَيْنَهُ عَدَاوَةٌ كَأَنَّهُ وَلِيٌّ حَمِيمٌ(( (فصلت:34) ”اور نیکی برابر ہوتی ہے اور نہ برائی(برائی کو)اس (طریقے)کے ساتھ ہٹا جو سب سے اچھا ہے تو اچانک وہ شخص کہ تیرےدرمیان اور اس کے درمیان دشمنی ہے، ایسا ہوگا جیسے وہ دلی دوست ہے۔“(الفوزان :المنتقيٰ:214) [1] ۔متفق عليه۔صحيح البخاري(1974) صحيح مسلم(182/1159)