کتاب: 477 سوال و جواب برائے نکاح و طلاق - صفحہ 116
میدان عرفات میں،جبکہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے اردگرد مسلمانوں کا سب سے بڑا اجتماع تھا، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ((وَلَهُنَّ عَلَيْكُمْ رِزْقُهُنَّ وَكِسْوَتُهُنَّ بِالْمَعْرُوفِ ))[1] ”تم پر معروف طریقے سے عورتوں کا کھانا اور پہناوا ضروری ہے۔“ آدمی کے لیے جائز نہیں کہ ان میں سے کسی چیز میں بھی کوتاہی سے کام لے،بلکہ پوری طرح ان حقوق کی پاسبانی کرے،ہاں اگر عورت نافرمان ہے اور مرد کے حقوق کا خیال نہیں رکھتی تو مرد سبق سکھانے کے لیے تھوڑا ہاتھ کھینچ سکتا ہے،مرد اگر نان و نفقہ میں کوتاہی کرتا ہے تو عورت کے لیے جائز ہے کہ معروف طریقے سے خاوند کے مال سے بغیر علم کے لے لے، اس لیے کہ ہندہ بنت عتبہ نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے اپنے خاوند ابو سفیان رضی اللہ عنہ کے بارے میں بات چیت کی اور کہا وہ کنجوس آدمی ہے، وہ مجھے اتنا بھی نہیں دیتا کہ جس سے میرا اور میرے بچے کا گزارا ہو سکےتو نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ((خُذِي مَا يَكْفِيكِ وَوَلَدَكِ، بِالْمَعْرُوفِ))[2] ”تومعروف طریقے سے اس کے مال میں سے اتنا لے لے جتنا تجھے اور تیرے بیٹے کو کفایت کر سکے۔“ اور خاوند کا حق کہ جس کی پاسداری بیوی پر ہر حالت میں ضروری ہے، وہ ہے جس کی طرف نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے حجۃ الوداع کے موقع پر اشارہ فرمایا اور یہ عرفہ کا دن تھا: ((وَلَكُمْ عَلَيْهِنَّ أَنْ لا يُوطِئْنَ فُرُشَكُمْ أَحَدًا تَكْرَهُونَهُ,))[3] [1] صحيح مسلم(147/1218) [2] صحيح البخاري ،رقم الحديث (5364) [3] صحيح مسلم(147/1218)