کتاب: 477 سوال و جواب برائے نکاح و طلاق - صفحہ 113
فلمیں پھر رقص وسرود تہمت اور سوء ظن کا ذریعہ ہے،مردوں کے لیے بھی اور ان خواتین کے لیے بھی جو اپنے بھائیوں یا ماموؤں کے ساتھ رقص کرتی ہیں، انسان ہر لحظہ خطرے میں ہے اور شیطان کی تو دعوت ہی بے حیائی کا فروغ ہے، آدمی کے شایان شان ہی نہیں کہ اپنی بہنوں یا خالاؤں کے ساتھ رقص کرتا، پھرے،اسے ایسے کام سے بہت دور اوربلند رہنا چاہیے، کسی اجنبی کے ساتھ رقص بلا شک حرام اور منکر فعل ہے، ہم اللہ تعالیٰ سے سلامتی چاہتے ہیں،مرد صرف تیر اندازی کریں اور عربی اشعار پڑھیں تو درست ہے، لیکن طبلہ اور برے نغمے پڑھنا جائز نہیں ہے۔(ابن باز:مجموع الفتاويٰ والمقالات:21/177) 112۔حدیث: (أعْلنُوا هَذَا النِّكَاح واجعلوه فِي الْمَسَاجِد واضربوا عَلَيْهِ بِالدُّفُوفِ)کا کیا حکم ہے؟ اولاً:اس حدیث کو امام ترمذی رحمۃ اللہ علیہ نے اپنی سند کے ساتھ اس طرح بیان کیا ہے: ((حدثنا أحمد بن منيع،حدثنا يزيد بن هارون،أخبرنا عيسي بن ميمون الأنصاري،عن القاسم بن محمد،عن عائشة رضي الله عنها قالت:قال رسول اللّٰه صلي اللّٰه عليه وسلم: ((أعْلنُوا هَذَا النِّكَاح واجعلوه فِي الْمَسَاجِد واضربوا عَلَيْهِ بِالدُّفُوفِ))[1] ”اس نکاح کا اعلان کرو،اسے مساجد میں منعقد کرو اور اس موقع پر دف بجاؤ۔“ امام صاحب رحمۃ اللہ علیہ اس حدیث کو ذکر کرنے کے بعد فرماتے ہیں: اس مسئلہ میں یہ حدیث حسن غریب ہے اور عیسیٰ بن میمون راوی ضعیف [1] ضعيف،سنن الترمذي(1089)