کتاب: 477 سوال و جواب برائے نکاح و طلاق - صفحہ 110
بھی اعلان نکاح کا حکم دیا ہے،کیونکہ اعلان نکاح میں بہت زیادہ مصلحتیں ہیں: 1۔نکاح اور زنا میں فرق۔ 2۔اس سنت کا اظہار جس کے متعلق نبی صلی اللہ علیہ وسلم کا ارشاد گرامی ہے: ((يَا مَعْشَرَ الشَّبَابِ، مَنِ اسْتَطَاعَ مِنْكُمُ البَاءَةَ فَلْيَتَزَوَّجْ، فَإِنَّهُ أَغَضُّ لِلْبَصَرِ وَأَحْصَنُ لِلْفَرْجِ، وَمَنْ لَمْ يَسْتَطِعْ فَعَلَيْهِ بِالصَّوْمِ، فَإِنَّهُ لَهُ وِجَاءٌ))[1] ”اے نوجوانوں کی جماعت!تم میں سے جو بھی اخراجات کی گنجائش رکھتا ہے وہ شادی کرے،اور جو طاقت نہیں رکھتا اس پر لازم ہے کہ روزہ رکھے،کیونکہ روزہ اس کی شہوت کو توڑنے والا ہے۔“ 3۔تہمت سے بچاؤ، کیونکہ اگر عورت حاملہ ہوگئی اور بچہ پیدا ہوگیا اور پوشیدہ طریقہ سے نکاح ہوا تو تہمت لگانے والے زبان کھولیں گے، لیکن اگر نکاح اعلان سے کرے گا تو تہمت سے بچا رہے گا۔ 4۔بسااوقات مرد اور عورت کے درمیان رضاعت وغیرہ کا ایسا رشتہ ہوتا ہے کہ ان کا نکاح حرام ہوتا ہے،جب نکاح کو ظاہر اور اعلانیہ کرے گا تو اگر کسی کے پاس کوئی ایسی شہادت یا ثبوت ہو گا وہ پیش کر سکے گا اور مفسدت واقع نہیں ہوگی۔ 5۔اعلان نکاح میں مسابقت کا پیغام ہے، یقیناً خربوزہ خربوزے کو دیکھ کر ہی رنگ پکڑتا ہے،جب ایک نوجوان نکاح کا اعلان کرے گا تو دوسرے نوجوانوںمیں بھی اس کی سبقت کا شوق انگڑائی لے گا۔ خلاصہ کلام یہ کہ اعلان نکاح میں بہت ساری مصلحتیں پنہاں ہیں، اسی لیے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے اس کا حکم دیا ہے۔ (ابن عثيمين :نور علي الدرب،:3) [1] متفق عليه،صحيح البخاري (1905) صحيح مسلم(1/1400)