کتاب: 477 سوال و جواب برائے نکاح و طلاق - صفحہ 107
ہے،چاہے ماں کی حقیقی بہن ہو یا صرف باپ کی طرف سے ہو یا صرف ماں کی طرف سے، قرآن کریم میں خالہ سے یہی مراد ہے۔(اللجنة الدائمة:2586) 102۔چچا کی دو بیٹیوں کو جمع کرنے کا حکم۔ دو بہنوں کو جمع کرنا جائز نہیں،کیونکہ اللہ تعالیٰ نے محرمات کی تعداد ذکر کرتے ہوئے فرمایا ہے: ((وَأَن تَجْمَعُوا بَيْنَ الْأُخْتَيْنِ إِلَّا مَا قَدْ سَلَفَ)) (النساء:23) ”اوریہ کہ تم دو بہنوں کو جمع کرو،مگر جو گزرچکا۔“ اسی طرح پھوپھی اور اس کی بھتیجی اور خالہ اور اس کی بھانجی کو جمع کرنا بھی جائزنہیں، اس لیے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کا فرمان ہے: ((لَا يُجْمَعُ بَيْنَ الْمَرْأَةِ وَعَمَّتِهَا، وَلَا بَيْنَ الْمَرْأَةِ وَخَالَتِهَا))[1] ”عورت اور اس کی پھوپھی اور عورت اور اس کی خالہ کو(ایک نکاح میں) جمع نہ کیا جائے۔“اسےبخاری و مسلم نے بیان کیا ہے صحیح بخاری میں حضرت جابررضی اللہ عنہ سے اسی کی مثل روایت موجود ہے،لیکن عورت اور اس کے چچا کی بیٹی کو جمع کرنا جائز ہے،کیونکہ اصلاً اس کا جواز موجود ہے اور ممانعت کی کوئی دلیل نہیں ہے۔(اللجنة الدائمة:1386) 103۔باپ کی بیوی(جو حقیقی ماں کے علاوہ ہے)کی ماں سے نکاح۔ جائز ہے،کیونکہ یہ ان محرم رشتوں میں سے نہیں ہے جس کے حرام ہونے [1] متفق عليه،صحيح البخاري(5109) صحيح مسلم(33/1408)