سورة الاعراف - آیت 34

وَلِكُلِّ أُمَّةٍ أَجَلٌ ۖ فَإِذَا جَاءَ أَجَلُهُمْ لَا يَسْتَأْخِرُونَ سَاعَةً ۖ وَلَا يَسْتَقْدِمُونَ

ترجمہ ترجمان القرآن - مولانا ابوالکلام آزاد

اور (دیکھو) ہر امت کے لیے ایک ٹھہرایا ہوا وقت ہے سو جب کسی امت کا ٹھہرایا ہوا وقت آگیا تو پھر نہ تو ایک گھڑی پیچھے رہ سکتی ہے نہ ایک گھڑی آگے (جو کچھ اس کے لیے ہونا ہے ہو گزرتا ہے) (١٢)

تفسیر تیسیر الرحمن لبیان القرآن - محمد لقمان سلفی صاحب

(24) اللہ تعالیٰ نے ہر قوم اور ہر زمانے کے رہنے والوں کی موت وہلاکت کا ایک وقت مقرر کر رکھا ہے جب وہ گھڑی آجائے گی تو اسے کوئی ٹال نہیں سکے گا، کبھی اللہ کسی سرکش قوم کو دنیا میں عذاب دے کر ہلاک کردیتا ہے اور کبھی کسی کو چھوڑ دیتا ہے یہاں تک کہ اس کے افراد طبعی موت مر جاتے ہیں، اور ان کا عذاب آخرت کے لیے اٹھا رکھا جاتا ہے۔ اس آیت کریمہ میں اس بات کی طرف اشارہ ہے کہ دنیا میں نافرمان امتوں اور قوموں کی ہلاکت ان کے گنا ہوں کی وجہ سے ہوتی ہے۔