سورة الاعراف - آیت 32

قُلْ مَنْ حَرَّمَ زِينَةَ اللَّهِ الَّتِي أَخْرَجَ لِعِبَادِهِ وَالطَّيِّبَاتِ مِنَ الرِّزْقِ ۚ قُلْ هِيَ لِلَّذِينَ آمَنُوا فِي الْحَيَاةِ الدُّنْيَا خَالِصَةً يَوْمَ الْقِيَامَةِ ۗ كَذَٰلِكَ نُفَصِّلُ الْآيَاتِ لِقَوْمٍ يَعْلَمُونَ

ترجمہ ترجمان القرآن - مولانا ابوالکلام آزاد

( اے پیغمبر) ان لوگوں سے کہو خدا کی زینتیں جو اس نے اپنے بندوں کے برتنے کے لیے پیدا کی ہیں اور کھانے پینے کی اچھی چیزیں کس نے حرام کی ہیں۔ تم کہو یہ (نعمتیں) تو اسی لیے ہیں کہ ایمان والوں کے کام آئیں، دنیا کی زندگی میں (زندگی کی مکروہات کے ساتھ اور) قیامت کے دن (ہر طرح کی مکروہات سے) خالص دیکھو، اس طرح ہم ان لوگوں کے لیے کھول کھول کر بیان کردیتے ہیں جو جاننے والے ہیں۔

تفسیر تیسیر الرحمن لبیان القرآن - محمد لقمان سلفی صاحب

(22) اس آیت کریمہ میں ان مشرکین کی تردید ہے جو اپنی خواہش نفس کے مطابق کھانے پینے کی چیزوں کو حلال وحرام بنا تے تھے،، ابن ابی حاتم اور طبرانی وغیر ہمانے ابن عباس (رض) سے روایت کی ہے کہ قریش والے ننگے بیت اللہ کا طواف کرتے اور سیٹیاں اور تالیاں بجاتے تھے، تو یہ آیت نازل ہوئی اور مسلمان کو لباس پہننے کا حکم دیا گیا، آیت میں" زینتہ سے مراد ہر وہ مباح چیز ہے جسے انسان خوبصورتی حاصل کرنے کے لیے استعمال کرتا ہے، اور طیبات " سے مراد کھانے اور پینے کی ہر وہ چیز ہے جسے اللہ نے بندوں کے لیے مباح کیا ہے۔ ابن جریر طبری لکھتے ہیں کہ جس نے روئی اور کتان کا لباس چھوڑ کر بال اور اون کا لباس اختیار کرلیا اس نے بہت بڑی غلطی کی اور جس نے گیہوں کی روٹی چھوڑ کر سبز یا اور دال کھانا شروع کردیا اور جس نے شہوت کے خوف سے گوشت کھانا چھوڑ دیا اس نے بہت بری خطا کی۔ اس کے بعد اللہ تعالیٰ نے فرمایا کہ یہ نعمتیں اور کھا نے پینے کی اچھی چیزیں دراصل مومنوں کے لیے ہیں۔ کفار ان کے تابع کی حثیت سے ان میں شریک ہوجاتے ہیں، اور قیامت کے دن تو ساری نعمتیں صرف اہل ایمان کے لیے ہوں گی، کفار ان کے ساتھ شریک نہیں ہوں گے اس لیے اللہ تعالیٰ نے کافروں پر جنت حرام کردی ہے۔