سورة الاعراف - آیت 24

قَالَ اهْبِطُوا بَعْضُكُمْ لِبَعْضٍ عَدُوٌّ ۖ وَلَكُمْ فِي الْأَرْضِ مُسْتَقَرٌّ وَمَتَاعٌ إِلَىٰ حِينٍ

ترجمہ ترجمان القرآن - مولانا ابوالکلام آزاد

فرمایا یہاں سے نکل جاؤ، تم ایک دوسرے کے دشمن ہو، اب تمہارے لیے زمین میں ٹھکانا ہے اور یہ کہ ایک خاص وقت تک وہاں کے سامان زندگی سے فائدہ اٹھاؤ گے۔

تفسیر تیسیر الرحمن لبیان القرآن - محمد لقمان سلفی صاحب

(14) اللہ نے آدم وحوا کی توبہ قبول کرلی، لیکن ان سے کہا کہ ارتکان معصیت کے بعد اب جنت میں تمہارے لیے جگہ نہیں رہی، ابلیس نے سجدہ سے انکار کیا، اور تم اور تمہاری ذریت اور ابلیس اور اس کی ذریت کے درمیان عداوت چلتی رہے گی، تم سب زمین پر ہی رہوگے اور دنیا کی عارضی نعمتوں سے موت آنے تک فائدہ اٹھاتے رہو گے، وہیں زندہ رہو گے، وہیں مرو گے، اور قیامت کے دن وہیں سے اٹھائے جاؤ گے۔ حافظ ابن کثیر رحمہ اللہ لکھتے ہیں کہ مفسرین غیر موثوقہ اور اسرائیلی روایات سے استفادہ کرتے ہوئے ان جگہوں کا ذکر کیا ہے جہاں آدم، حوا، ابلیس اور سانپ میں سے ہر ایک زمین پر اترا تھا، اگر ان کے ذکر کرنے میں کوئی فائدہ ہوتا تو اللہ اپنی کتاب میں یارسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) ضرور ان کا ذکر کرتے۔