سورة الاعراف - آیت 11

وَلَقَدْ خَلَقْنَاكُمْ ثُمَّ صَوَّرْنَاكُمْ ثُمَّ قُلْنَا لِلْمَلَائِكَةِ اسْجُدُوا لِآدَمَ فَسَجَدُوا إِلَّا إِبْلِيسَ لَمْ يَكُن مِّنَ السَّاجِدِينَ

ترجمہ ترجمان القرآن - مولانا ابوالکلام آزاد

اور (٢) (دیکھو یہ ہماری ہی کار فرمائی ہے کہ) ہم نے تمہیں پیدا کیا (یعنی تمہارا وجود پیدا کیا) پھر تمہاری (یعنی نوع انسانی کی) شکل و صورت بنا دی پھر (وہ وقت آیا کہ) فرشتوں کو حکم دیا آدم کے آگے جھک جاؤ، اس پر سب جھک گئے مگر ابلیس کہ جھکنے والوں میں سے نہ تھا۔

تفسیر تیسیر الرحمن لبیان القرآن - محمد لقمان سلفی صاحب

(8) اللہ تعالیٰ نے آدم (علیہ السلام) کی قدرو منزل اور ان کی فضیلت بیان کرنے کے بعد بنی آدم کو تنبیہ کی ہے کہ ان کا سب سے بڑا دشمن ابلیس ہے جو آدم کی ابتدائے آفر ینش سے ہی ان کے اور ان کی اولاد کے خلاف حسد کی آگ میں جلتا رہا ہے، اور انہیں دینی اور دنیاوی طور پر نقصان پہنچا نے کی ہر ممکن کوشش کرتا رہا ہے، اس لیے اس سے بچنا لازم ہے۔ آیت میں : خلقنا کم "جمع کا صیغہ استعمال کیا گیا ہے اور مراد آدم (علیہ السلام) ہیں، جمع صیغہ اس اعتبار سے ہے کہ وہ تمام بنی نوع انسان کے باپ ہیں، اللہ تعالیٰ نے آدم (علیہ السلام) کو اپنے ہاتھ سے مٹی سے بنایا اور انسان کی شکل دے کر اس میں روح پھو نکی، تو تمام فرشتوں کو (رب العالیمن کی تعظیم شان کے لیے) اس کا سجدہ کرنے کا حکم دیا، چنا چہ سب نے بات مانی اور اطاعت کی، لیکن ابلیس نے سجدہ کرنے سے انکار کردیا تو اللہ تعالیٰ نے سوال کیا کہ میں جب تجھے سجدہ کرنے کا حکم دیا تھا تو کس چیز نے تجھے روک دیا تو ابلیس لعین نے ( عذر گناہ کے طور پر) کہا کہ میں تو اس سے افضل ہوں، تو مجھ کو اسے سجدہ کرنے کا حکم کیسے دیتا ہے ؟! مجھے تو نے آگ سے پیدا کیا ہے، اور آگ مٹی سے اشرف ہوتی ہے۔ قابل غور بات یہ ہے کہ ابلیس نے آگ اور مٹی کو عناصر پر نظر رکھی اور بھول گیا کہ اللہ نے آدم کو اپنے ہاتھ سے بنایا ہے اور اس میں اپنی روح پھونکی ہے، اس نے صریح کہ تم لوگو اس کے لیے سجدہ میں گر جاؤ، کے مقابلے میں قیاس فاسد سے کام لیا۔ اور سجدہ کا منکر ہوگیا تو اللہ تعالیٰ کی رحمت سے دور کردیا گیا، اور اس کا یہ دعوی بھی غلط تھا کہ آگ مٹی سے اشرف ہے، کیونکہ مٹی کی فطرت میں سنجیدگی، بردباری، سوچ اور ٹھراؤ ہے مٹی میں انواع وقسام کے پودے اگتے ہیں، اس میں انسانوں اور حیوانات کی روزی پیدا ہوتی ہے، اس کے برعکس آگ چیزوں کو جلادیتی ہے، اور اس میں طیش اور تیز کی صفت پائی جاتی ہے ؛، اور یہی وجہ ہے کہ ابلیس کو آگ نے دھوکہ دیا، اور آدم (علیہ السلام) نے مٹی سے بنے ہونے کی وجہ سے) اللہ کے سامنے خشوعو خضوع سے کام لیا، اور اپنے گناہ کا اعتراف کر کے توبہ واستغفار کی راہ اختیار کی۔