سورة الانعام - آیت 164

قُلْ أَغَيْرَ اللَّهِ أَبْغِي رَبًّا وَهُوَ رَبُّ كُلِّ شَيْءٍ ۚ وَلَا تَكْسِبُ كُلُّ نَفْسٍ إِلَّا عَلَيْهَا ۚ وَلَا تَزِرُ وَازِرَةٌ وِزْرَ أُخْرَىٰ ۚ ثُمَّ إِلَىٰ رَبِّكُم مَّرْجِعُكُمْ فَيُنَبِّئُكُم بِمَا كُنتُمْ فِيهِ تَخْتَلِفُونَ

ترجمہ ترجمان القرآن - مولانا ابوالکلام آزاد

کہہ دوکہ : کیا میں اللہ کے سوا کوئی اور پروردگار تلاش کروں، حالانکہ وہ ہر چیز کا مالک ہے ؟ اور جو کوئی شخص کوئی کمائی کرتا ہے، اس کا نفع نقصان کسی اور پر نہیں، خود اسی پر پڑتا ہے۔ اور کوئی بوجھ اٹھانے والا کسی اور کا بوجھ نہیں اٹھائے گا۔ (٨٥) پھر تمہارے پروردگار ہی کی طرف تم سب کو لوٹنا ہے۔ اس وقت وہ تمہیں وہ ساری باتیں بتائے گا جن میں تم اختلاف کیا کرتے تھے۔

تفسیر تیسیر الرحمن لبیان القرآن - محمد لقمان سلفی صاحب

(162) مشرکین نے نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کو اپنے بتوں کی عبادت کی دعوت دی تو اللہ تعالیٰ نے آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) سے فرمایا آپ ان سے کہہ دیجئے کہ کیا میں اللہ کے سو اپنا کوئی اور رب بنا لوں جسے اللہ کی عبادت میں شریک کروں، میں اللہ کو سوا کسی اور پر توکل کروں گا اور نہ ہی کسی اور کی طرف رجوع کروں گا، اس لیے کہ اللہ ہی ہر چیز کا خالق و مالک ہے، اسی کے ہاتھ میں سب کچھ ہے ۔ (163) قیامت کے دن کی صورت حال بیان کی گئی ہے کہ اس دن تمام انسان کو ان کے اعمال کا بد لہ دیا جائے گا، دنیا میں جس اور اسی نے تمہیں زمین میں خلیفہ بنایا، اور تم میں سے بعض کو بعض کے مقابلہ میں کئی درجہ بلندی عطا کی، تاکہ جو کچھ تمہیں دیا ہے، اس کے ذریعہ تمہیں آزمائیں، بے شک آپ کا رب جلد سزا دینے والاہے اور وہ بے شک بڑا ہی مغفرت کرنے والا، نہایت مہر بان ہے۔ نے نیک اعمال کئے ہوں گے اسے اچھا بدلہ ملے گا، اور جس نے برے اعمال کیے ہوں گے اسے برا بدلہ ملے گا، کسی کا گناہ دوسرے پر نہیں ڈالا جائے گا، جیسا کہ اللہ تعالیٰ نے سورۃ طحہ آیت (112) میں فرمایا ہے : یعنی قیامت کے دن کسی پر ایسا ظلم نہیں ہوگا کہ دوسرے کا گناہ اس کے سر تھوپ دیا جائے، یا اس کی نیکیوں میں سے کم کردیا جائے۔