سورة الانعام - آیت 161

قُلْ إِنَّنِي هَدَانِي رَبِّي إِلَىٰ صِرَاطٍ مُّسْتَقِيمٍ دِينًا قِيَمًا مِّلَّةَ إِبْرَاهِيمَ حَنِيفًا ۚ وَمَا كَانَ مِنَ الْمُشْرِكِينَ

ترجمہ ترجمان القرآن - مولانا ابوالکلام آزاد

(اے پیغمبر) کہہ دو کہ میرے پروردگار نے مجھے ایک سیدھے راستے پر لگا دیا ہے جو کجی سے پاک دین ہے، ابراہیم کا دین۔ جنہوں نے پوری طرح یکسو ہو کر اپنا رخ صرف اللہ کی طرف کیا ہوا تھا، اور وہ شرک کرنے والوں میں سے نہیں تھے۔

تفسیر تیسیر الرحمن لبیان القرآن - محمد لقمان سلفی صاحب

160) اس آیت کریمہ یمہ میں مشرکین مکہ اور یہود ونصاری کی تردید کی گئی ہے جو اس زعم باطل میں تھے کہ وہ دین ابراہیمی پر قائم ہیں اللہ تعالیٰ نے رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کو حکم دیا کہ آپ ان سے کہہ دیجئے کہ تمہارا دعوی غلط ہے، دین ابراہیم تو دین اسلام ہے جسے اللہ نے انے مخلص بندو‏ں کے لے پسند فرمایا ہے، اور جس پر میں قائم ہوں۔ امام احمد نے ابن عباس (رض) سے روایت کی ہے رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) سے پوچھا گیا کہ کون سا دین اللہ کے نزدیک زیادہ محبوب ہے ؟ تو آپ نے فرمایا "دین حنفی جس میں تنگی نہیں ہے ( یعنی دین اسلام) امام احمد نے عائشہ (رض) سے روایت کی ہے کہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے ٹھڈی اپنے دونوں کندھوں پر رکھ دی تاکہ میں حبشہ والوں کا کھیل دیکھ سکوں، یہاں تک کہ میں خود ہی تھک کر واپس ہوگئی، عائشہ (رض) نے کہا رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے اس دن فرمایا یہود جان لیں کہ ہمارے دین میں وسعت ہے، میں دین حنفی دے کر بھیجا گیا ہو جس میں وسعت ہے۔