سورة الانعام - آیت 160

مَن جَاءَ بِالْحَسَنَةِ فَلَهُ عَشْرُ أَمْثَالِهَا ۖ وَمَن جَاءَ بِالسَّيِّئَةِ فَلَا يُجْزَىٰ إِلَّا مِثْلَهَا وَهُمْ لَا يُظْلَمُونَ

ترجمہ ترجمان القرآن - مولانا ابوالکلام آزاد

جو شخص کوئی نیکی لے کر آئے گا اس کے لیے اس جیسی دس نیکیوں کا ثوب ہے اور جو شخص کوئی بدی لے کر آئے گا، تو اس کو صرف اسی ایک بدی کی سزا دی جائے گی، اور ان پر کوئی ظلم نہیں ہوگا۔

تفسیر تیسیر الرحمن لبیان القرآن - محمد لقمان سلفی صاحب

(159) گذشتہ آیت میں اللہ تعالیٰ کے اوامر کی مخالفت کرنے والوں کو دھمکی دی گئی ہے، اسی لیے اب اللہ کی اطاعت کرنے والوں کے لیے اجر عظیم بیان کیا جا رہا ہے اور یہ اجر انہیں قیامت کے دن ملے گا، اور یہاں کم ازکم اجر مراد ہے، اس لیے کہ احادیث میں بعض اعمال کا اجر ستر گنا اور بعض کا سات گنا اور بعض کا بے حساب بتایا گیا ہے۔ امام احمد اور مسلم نے ابو ذر (رض) سے روایت کی ہے کہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : اللہ تعالیٰ کہتا ہے کہ جو نیکی کرے گا اسے دس گنا یا زیادہ اجر ملے گا، اور جو برائی کرے گا، اسے ویسے ہی ملے گا یا میں اسے معاف کر دوں گا۔، اور جو مجھ سے پالشت قریب ہوگا میں میں اس سے دونوں ہاتھوں کی لمبائی کے برابر قریب ہوں گا، اور جو میری طرف چل کر آئے گا میں اس کی طرف دوڑ کر آؤں گا۔ الحدیث۔