سورة الانعام - آیت 149

قُلْ فَلِلَّهِ الْحُجَّةُ الْبَالِغَةُ ۖ فَلَوْ شَاءَ لَهَدَاكُمْ أَجْمَعِينَ

ترجمہ ترجمان القرآن - مولانا ابوالکلام آزاد

(اے پیغمبر ! ان سے) کہو کہ : ایسی دلیل تو اللہ ہی کی ہے جو (دلوں تک) پہنچنے والی ہو۔ چنانچہ اگر وہ چاہتا تو تم سب کو (زبردستی) ہدایت پر لے آتا۔ (٨٠)

تفسیر تیسیر الرحمن لبیان القرآن - محمد لقمان سلفی صاحب

(149) نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کو خطاب کر کے کہا جارہا ہے کہ آپ کہہ دیجئے کہ اللہ جسے چاہتا ہے ہدایت دیتا ہے اور جسے چاہتا ہے گمراہ کردیتا ہے اس کے حکمت تامہ اور اسباب کو اس کے علاہ کوئی نہیں جانتا، اگر وہ چاہتا تو تمام بنی نوع انسان کو ہدایت کی راہ پر ڈال دیتا، جیسا کہ اللہ تعالیٰ نے سورۃ انعام کی آیت (35) میں فرمایا ہے : اور اگر اللہ چاہتا تو سب کو راہ ہدایت پر جمع کردیتا "۔ ضحاک کا قول ہے کہ اللہ کی نافرمانی کرنے والوں کے پاس کوئی حجت نہیں ہوتی، لیکن اللہ کے پاس اپنے بندوں کے بارے میں غایت درجہ کی حجت ہے۔