سورة الانعام - آیت 147

فَإِن كَذَّبُوكَ فَقُل رَّبُّكُمْ ذُو رَحْمَةٍ وَاسِعَةٍ وَلَا يُرَدُّ بَأْسُهُ عَنِ الْقَوْمِ الْمُجْرِمِينَ

ترجمہ ترجمان القرآن - مولانا ابوالکلام آزاد

پھر بھی اگر یہ (کافر) تمہیں جھٹلائیں تو کہہ دو کہ : تمہارا پروردگار بڑی وسیع رحمت کا مالک ہے اور اس کے عذاب کو مجرموں سے ٹلایا نہیں جاسکتا۔ (٧٨)

تفسیر تیسیر الرحمن لبیان القرآن - محمد لقمان سلفی صاحب

(147) نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کو خطاب کر کے کہا جا رہا ہے کہ اگر مشر کین اور یہود آپ کی تکذیب کریں اور کہیں کہ تحلیل وتحریم سے متعلق تم نے جن احکام کی نسبت اللہ کی طرف کی ہے ان میں تم صادق نہیں ہو، تو آپ کہہ دیجئے کہ اللہ بڑا ہی رحم کرنے والا ہے کہ تمہاری نافر مانیوں پر تمہیں عذاب دینے میں جلد دی نہیں کر رہا ہے، لیکن یہ بات تمہاری ذہنوں سے غائب نہیں ہونی چاہیے۔ کہ عذاب میں تاخیر کا ہرگز یہ مطلب نہیں کہ جرم کرنے والی قوموں سے اللہ کا عذاب ٹل جائے گا، اللہ کے علم کے مطابق جب اس کا وقت آجائے گا تو اسے کوئی ٹال نہیں سکے گا، یا یہ مراد ہے کہ اگر دنیا میں عذاب نہیں آتا تو آخرت میں مجرموں سے عذاب کو کوئی نہیں ٹال سکے گا۔