سورة الانعام - آیت 140

قَدْ خَسِرَ الَّذِينَ قَتَلُوا أَوْلَادَهُمْ سَفَهًا بِغَيْرِ عِلْمٍ وَحَرَّمُوا مَا رَزَقَهُمُ اللَّهُ افْتِرَاءً عَلَى اللَّهِ ۚ قَدْ ضَلُّوا وَمَا كَانُوا مُهْتَدِينَ

ترجمہ ترجمان القرآن - مولانا ابوالکلام آزاد

حقیقت یہ ہے کہ وہ لوگ بڑے خسارے میں ہیں جنہوں نے اپنی اولاد کو کسی علمی وجہ کے بغیر محض حماقت سے قتل کیا ہے، اور اللہ نے جو رزق ان کو دیا تھا اسے اللہ پر بہتان باندھ کر حرام کرلیا ہے۔ وہ بری طرح گمراہ ہوگئے ہیں، اور کبھی ہدایت پر آئے ہی نہیں۔

تفسیر تیسیر الرحمن لبیان القرآن - محمد لقمان سلفی صاحب

(140) مشر کین عرب نے تنگی رزق کے ڈر سے بیٹوں کو اور ننگ وعار کے خوف سے بیٹیوں کو قتل کیا، اور اللہ تعالیٰ نے جن جانوروں کا گوشت کھانا ان کے لیے حلال بتایا تھا اپنی خود ساختہ شریعت کے ذریعہ انہیں اپنے لیے حرام بنا لیا، اور اس طرح دنیا وآخرت کے ہر خسارے کے مستحق بنے، دنیا میں اولاد کھوئی اور اللہ کی نعمتوں سے محروم رہے، اور آخرت میں اللہ پر افترا پردازی کی وجہ سے عذاب الیم کے مستحق بنیں گے۔