سورة الانعام - آیت 123

وَكَذَٰلِكَ جَعَلْنَا فِي كُلِّ قَرْيَةٍ أَكَابِرَ مُجْرِمِيهَا لِيَمْكُرُوا فِيهَا ۖ وَمَا يَمْكُرُونَ إِلَّا بِأَنفُسِهِمْ وَمَا يَشْعُرُونَ

ترجمہ ترجمان القرآن - مولانا ابوالکلام آزاد

اور اسی طرح ہم نے ہر بستی میں وہاں کے مجرموں کے سرغنوں کو یہ موقع دیا ہے کہ وہ اس (بستی) میں (مسلمانوں کے خلاف) سازشیں کیا کریں۔ (٥٥) اور وہ جو سازشیں کرتے ہیں، (درحقیقت) وہ کسی اور کے نہیں، بلکہ خود ان کے اپنے خلاف پڑتی ہیں، جبکہ ان کو اس کا احساس نہیں ہوتا۔

تفسیر تیسیر الرحمن لبیان القرآن - محمد لقمان سلفی صاحب

(120) نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کو تسلی دی گئی ہے کہ جس طرح ہم نے مکہ میں کچھ بڑے (مجرمین) پیدا کئے ہیں، جو اپنے پیرو کار کو دھوکا دینے کے لیے باطل کو بنا سنوار کر پیش کرتے ہیں، اور حق کو چھپاتے ہیں۔ اسی طرح آپ سے پہلے بھی ہو اس بستی میں جس کی ہدایت کے لیے اللہ نے کسی نبی کو بھیجا کچھ بڑے مجرمین پیدا کیے، جنہوں نے حق کا نکار اور باطل کو خوش رنگ بنا کر عام لوگوں کے سامنے پیش کیا، اور انہیں دھوکہ میں ڈال کر اللہ کے نبی کے اتباع سے روکا۔ ابن کثیر رحمہ اللہ کہتے ہیں، کہ مکر" سے مراد یہی ہے کہ ان مجرمین نے اپنے ماننے وا لوں کو چکنی چیڑی باتوں کے ذریعہ کمرا ہی کی دعوت دی، اور انبیاء ورسل کو آزمائشوں میں مبتلا کیا، لیکن بلآ خر انبیاء کو اللہ کی نصرت حاصل ہوئی اور ان مجرموں کی سازشیں دھری کی دھری رہ گئیں۔