سورة الانعام - آیت 92

وَهَٰذَا كِتَابٌ أَنزَلْنَاهُ مُبَارَكٌ مُّصَدِّقُ الَّذِي بَيْنَ يَدَيْهِ وَلِتُنذِرَ أُمَّ الْقُرَىٰ وَمَنْ حَوْلَهَا ۚ وَالَّذِينَ يُؤْمِنُونَ بِالْآخِرَةِ يُؤْمِنُونَ بِهِ ۖ وَهُمْ عَلَىٰ صَلَاتِهِمْ يُحَافِظُونَ

ترجمہ ترجمان القرآن - مولانا ابوالکلام آزاد

اور (اسی طرح) یہ بڑی برکت والی کتاب ہے جو ہم نے اتاری ہے، پچھلی آسمانی ہدایات کی تصدیق کرنے والی ہے، تاکہ تم اس کے ذریعے بستیوں کے مرکز (یعنی مکہ) اور اس کے اردگرد کے لوگوں کو خبردار کرو۔ اور جو لوگ آخرت پر ایمان رکھتے ہیں وہ اس پر بھی ایمان رکھتے ہیں، اور وہ اپنی نماز کی پوری پوری نگہداشت کرتے ہیں۔

تفسیر تیسیر الرحمن لبیان القرآن - محمد لقمان سلفی صاحب

(87) جب نزول وحی کے انکار کی نفی اور تورات کے منبزل من اللہ کتاب ہونے کا اثبات ہوچکا، تو اب قرآن کریم کا ذکر کیا گیا جو تورات اور دیگر تمام آسمانی کتابوں کی تصدیق کرتا ہے، اور جس میں دنیا و آخرت کی تمام بھال ئیاں، زمانہ گذشتہ و پیو ستہ کے تمام علوم اور نبی نوع انسان کے لیے ہر قسم کے فوئد منافع بیان کردیئے ہیں، مکہ مکرمہ کو "ام القری "اس لیے کہا گیا ہے کہ وہ پہلا گھر ہے جسے انسانوں کے لیے اللہ کے حکم سے بنایا گیا، اور جو اہل جہان کا قبلہ اور ان کے حج کی جگہ ہے۔ یہ آیت دلیل ہے کہ نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) تمام جہان والوں کے لیے نبی بنا کر بھیجے گئے تھے، جیساکہ اللہ تعالیٰ نے سورۃ اعراف آیت (158) میں فرمایا ہے : کہ آپ کہہ دیجئے کہ اے لوگو ! میں تم سب کے لیے رسول بنا کر بھیجا گیا ہوں۔ اور سورۃ فرقان کی آیات (1) میں فرمایا : بابرکت ہے وہ ذات جس نے اپنے بندے پر فرقان نازل فرمایا تاکہ سارے جہان کو (اللہ کے عذاب سے) صحیحین میں جابر عبد اللہ (رض) سے مروی ہے کہ نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : ہر نبی اپنی قوم کے لیے خاص طور پر بھیجا جاتا تھا، اور میں تمام نبی نوع انسان کے لیے بھیجا گیا ہو ‏ ۔ (88) ایمان بالآخرت کا تقا ضا ہے کہ آدمی نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) اور قرآن پر ایمان لائے، اس لیے کہ آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی دعوت کا مقصد ہی یہ تھا کہ آپ بنی نوع انسان کو آخرت میں عذاب نار سے بچنے اور حصول جنت کے لیے عمل کرنے کی دعوت دیں۔ آخرت پر ایمان رکھنے والوں کی ایک صفت یہ بھی ہوتی ہے کہ وہ اپنی نمازوں کی حفاظت کرتے ہیں، اور نماز کا ذکر بالخصوص اس لیے کیا گیا کہ ایمان باللہ کے بعد سب سے اہم اور اشرف عبادت ہی ہے، اسی لی سوربقرہ کی آیت (143) میں نماز کو ایمان سے تعبیر کیا گیا فرمایا : یہاں ایمان سے ایمان سے مراد نماز ہے، اسلام میں نماز کی اہمیت کا اندازہ از سے لگا جاسکتا ہے کہ ترک نماز پر کفر کا اطلاق ہو اہے، نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : جس نے جان بوجھ کر نماز چھوڑدی، وہ کافر ہوگیا، اس حدیث کو طبرانی نے انس (رض) سے المعجم الاسط میں رویایت کی ہے۔