سورة الانعام - آیت 74

۞ وَإِذْ قَالَ إِبْرَاهِيمُ لِأَبِيهِ آزَرَ أَتَتَّخِذُ أَصْنَامًا آلِهَةً ۖ إِنِّي أَرَاكَ وَقَوْمَكَ فِي ضَلَالٍ مُّبِينٍ

ترجمہ ترجمان القرآن - مولانا ابوالکلام آزاد

اور (اس وقت کا ذکر سنو) جب ابراہیم نے اپنے باپ آزر سے کہا تھا کہ : کیا آپ بتوں کو خدا بنائے بیٹھے ہیں؟ میں دیکھ رہا ہوں کہ آپ اور آپ کی قوم کھلی گمراہی میں مبتلا ہیں۔

تفسیر تیسیر الرحمن لبیان القرآن - محمد لقمان سلفی صاحب

(69) اللہ نے نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کو حکم دیا ہے کہ جو مشرکین دین اسلام کا مذاق اڑاتے ہیں، انہیں بتا دیجئے کہ براہیم (علیہ السلام) جن کی محبت کا وہ دم بھر تے ہیں اور جن کی طرف اپنی نسبت پر فخر کرتے ہیں، انہوں نے تو اللہ کی خاطر اپنے مشرک باپ کی بھی پر واہ نہیں کہ، اور اس کے مشرکانہ کردار و اعمال کا بر ملا انکار کیا۔ یہ آیت اس پر قطعی دلیل ہے کہ " آزر" ابراہیم (علیہ السلام) کے باپ کا نام تھا، اور اس کی تا ئید بخاری کی اس حدیث سے بھی ہوتی ہے، جسے ابو ہریرہ (رض) نے رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) سے روایت کی ہے کہ قیامت کے دن ابراہیم (علیہ السلام) اپنے باپ آزر سے ملیں گے تو آزر کے چہر پر غبار اڑ رہا ہوگا، اور پر یشانی طاری ہوگی، ابراہیم اس سے کہیں گے کہ میں نے تم سے کہا تھا کہ میری نافرمانی نہ کرو۔ تو ان کا باپ کہے گا کہ آج میں تیری نافرمانی نہیں کروں گا، ابرا ہیم کہیں گے، اے رب ! تو نے مجھ سے وعدہ کیا تھا کہ قیامت کے دن مجھے رسوا نہیں کرے گا، اور اس سے بڑھ کر رسوائی کی اہو سکتی ہے کہ میرا باپ تیری رحمت سے دور کردیا جائے ؟ تو اللہ کہے گا کہ میں جنت کو کافروں پر حرام کردیا ہے، پھر کہا جائے اے ابراہیم ! اپنے پاؤں کے نیچے دیکھو، وہ دیکھیں گے تو انہیں خون میں لت پت ایک جسم ملے گا، جس کے پاؤں کو پکڑ کر جہنم میں ڈال دیا جائے گا۔ (