سورة الانعام - آیت 65

قُلْ هُوَ الْقَادِرُ عَلَىٰ أَن يَبْعَثَ عَلَيْكُمْ عَذَابًا مِّن فَوْقِكُمْ أَوْ مِن تَحْتِ أَرْجُلِكُمْ أَوْ يَلْبِسَكُمْ شِيَعًا وَيُذِيقَ بَعْضَكُم بَأْسَ بَعْضٍ ۗ انظُرْ كَيْفَ نُصَرِّفُ الْآيَاتِ لَعَلَّهُمْ يَفْقَهُونَ

ترجمہ ترجمان القرآن - مولانا ابوالکلام آزاد

کہو کہ : وہ اس بات پر پوری طرح قدرت رکھتا ہے کہ تم پر کوئی عذاب تمہارے اوپر سے بھیج دے یا تمہارے پاؤں کے نیچے سے (نکال دے) یا تمہیں مختلف ٹولیوں میں بانٹ کر ایک دوسرے سے بھڑا دے، اور ایک دوسرے کی طاقت کا مزہ چکھا دے۔ دیکھو ! ہم کس طرح مختلف طریقوں سے اپنی نشانیاں واضح کر رہے ہیں تاکہ یہ کچھ سمجھ سے کام لے لیں۔

تفسیر تیسیر الرحمن لبیان القرآن - محمد لقمان سلفی صاحب

(60) یعنی اے میرے رسول صلی اللہ علیہ جن مشر کین نے وعدہ کیا تھا کہ وہ مصیبت سے نجات پانے کے بعد اللہ کے شکر گزار بندے بن جائیں گے، لیکن اپنا وعدہ بھول گئے اور پھر شرک کرنے لگے ،۔ آپ ان لوگوں سے کہہ دیجئے کہ اللہ کے عذاب سے امان محسوس کرنے کی کوئی وجہ نہیں، اس لیے کہ وہ تو ہر وقت اور ہر حال میں مختلف قسم کے عذاب میں مبتلا کرنے پر قادر ہے، وہ چاہے گا تو آگ یا پتھروں کی بارش بر سا دے گا، یا آسمان کو ہی تمہاری سر پر گرادے گا، یا چاہے گا تو کوئی طوفان بھیج دے گا یا زمین میں دھنسا دے گا یا تمہیں مختلف ٹولیوں میں بانٹ دے گا، اور پھر تم آپس میں ایک دوسرے کو قتل کرتے رہوں گے۔ بخاری نے جابر (رض) سے روایت کی ہے کہ جب یہ آیت نازل ہوئی تو رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے اس کے بعد جب آیت کا یہ حسہ نازل ہوا تو آپ نے دبارہ کہا پھر جب نازل ہو اتو آپ نے کہا : یہ زیادہ آسان ہے۔ مسلم نے سعد بن ابی وقاص (رض) سے روایت کی ہے کہ ایک دن ہم رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے ساتھ ایک قریبی بستی سے آرہے تھے، تو بنی معاویہ کی مسجد کے پاس سے گذرے، آپ نے مسجد میں داخل ہو کر دورکعت نماز پڑھی، اور ہم نے بھی آپ کے ساتھ نماز پڑھی، آپ نے بڑ لمبی دعا کی، پھر ہماری طرف مڑکر فرمایا میں نے اپنے رب سے تین چیزیں مانگی تھیں تو اس نے مجھے دو عطا کیا اور ایک کو روک دیا، میں نے اپنے رب سے منگا کہ میری امت کو قحط سا لی سے ہلاک نہ کرے، تو اس نے مجھا دیا، اور میں نے اپنے رب سے سوال کیا کہ میری امت آپس میں ایک دوسے کے درپے نہ ہو، تو اس دعا کو روک دیا ،