سورة البقرة - آیت 77

أَوَلَا يَعْلَمُونَ أَنَّ اللَّهَ يَعْلَمُ مَا يُسِرُّونَ وَمَا يُعْلِنُونَ

ترجمہ ترجمان القرآن - مولانا ابوالکلام آزاد

(افسوس ان کے دعوائے ایمان و حق پرستی پر !) کیا یہ نہیں جانتے کہ (معاملہ انسان سے نہیں بلکہ اللہ سے ہے اور) اللہ کے علم سے کوئی بات چھپی ؟ وہ جو کچھ چھپا رکھتے ہیں اسے بھی وہ جانتا ہے اور جو کچھ ظاہر کرتے ہیں وہ بھی اس کے سامنے ہے؟

تفسیر تیسیر الرحمن لبیان القرآن - محمد لقمان سلفی صاحب

١٢٤: علمائے یہود کے ذکر کے بعد ان کے عوام کا ذکر ہورہا ہے کہ کفر و ضلالت میں سبھی برابر ہیں، یہ لوگ لکھنا پڑھنا نہیں جانتے تھے تاکہ خود تورات کا مطالعہ کرتے، اور نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی نبوت کے دلائل کو سمجھتے اور ایمان لاتے، ان کا کل اثاثہ کچھ بے بنیاد تمنائیں تھیں جو انہوں نے اپنے علماء سے پایا تھا، وہ کہتے تھے کہ اللہ تعالیٰ انہیں معاف کردے گا، اس لیے کہ کہ ان کے انبیاء جن کی وہ اولاد ہیں، ان کے لیے اللہ کے یہاں شفاعت کریں گے۔ اس کے علاوہ بھی دیگر ایسی بے بنیاد تمنائیں ان کے دل و دماغ کی آماجگاہ تھیں جن کی ان کے پاس کوئی دلیل نہیں تھی اور جنہیں محض اپنے علماء کی تقلید میں اپنے ایمان کا حصہ بنا لیا تھا۔