سورة الانعام - آیت 46

قُلْ أَرَأَيْتُمْ إِنْ أَخَذَ اللَّهُ سَمْعَكُمْ وَأَبْصَارَكُمْ وَخَتَمَ عَلَىٰ قُلُوبِكُم مَّنْ إِلَٰهٌ غَيْرُ اللَّهِ يَأْتِيكُم بِهِ ۗ انظُرْ كَيْفَ نُصَرِّفُ الْآيَاتِ ثُمَّ هُمْ يَصْدِفُونَ

ترجمہ ترجمان القرآن - مولانا ابوالکلام آزاد

(اے پیغمبر ! ان سے) کہو : ذرا مجھے بتاؤ کہ اگر اللہ تمہاری سننے کی طاقت اور تمہاری آنکھیں تم سے چھین لے اور تمہارے دلوں پر مہر لگا دے، تو اللہ کے سوا کونسا معبود ہے جو یہ چیزیں تمہیں لاکر دیدے؟ دیکھو ہم کیسے کیسے مختلف طریقوں سے دلائل بیان کرتے ہیں، پھر بھی یہ لوگ منہ پھیر لیتے ہیں۔

تفسیر تیسیر الرحمن لبیان القرآن - محمد لقمان سلفی صاحب

(46) مشر کین مکہ کے نئے انداز میں زجروتوبیخ کی جا رہی ہے اور ان کے مشرکانہ اعمال کے فساد کو بیان کیا جا رہا ہے، کہ اے میرے رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) آپ ان سے کہہ دیجئے کہ اگر اللہ تمہارے کان اور تمہاری آنکھ لے لے، اور تمہارے دلوں پر مہر لگادے تو کیا للہ کے سوا کوئی ہے جو انہیں دو بارہ لو ٹا دے ؟! آیت میں مذ کور تینوں اعضاے جسم انسانی کے اشرف اعضاء ہیں جب وہ بے کار ہوجاتے ہیں تو جسم انسانی کا نظام مختل ہوجاتا ہے اسی لیے اللہ تعالیٰ نے انہی تینوں کا ذکر کیا، اس کے بعد اللہ نے فرمایا کہ آپ دیکھ لیجئے کہ کس طرح ہم نشا نیوں کو مختلف انداز میں بیان کرتے ہیں، لیکن یہ مشر کین انہیں دیکھنے کے باوجود اعراض کرتے ہیں اور حسد و عناد اور کبروغرار کی وجہ سے ان میں غور نہیں کرتے۔ یہاں "آیات"سے مراد یا تو مطلق دلائل ہیں، یا مطلق قرآنی دلاءل جو ابتدائے سورت سے لے کر یہاں تک بیان کیے گئے ہیں، یا عقلی دلائل جو آسمانوں اور زمین کے بنانے والے اور اس کی وحدا نیت پر دلالت کرتے ہیں۔