سورة الانعام - آیت 33

قَدْ نَعْلَمُ إِنَّهُ لَيَحْزُنُكَ الَّذِي يَقُولُونَ ۖ فَإِنَّهُمْ لَا يُكَذِّبُونَكَ وَلَٰكِنَّ الظَّالِمِينَ بِآيَاتِ اللَّهِ يَجْحَدُونَ

ترجمہ ترجمان القرآن - مولانا ابوالکلام آزاد

(اے رسول) ہمیں خوب معلوم ہے کہ یہ لوگ جو باتیں کرتے ہیں ان سے تمہیں رنج ہوتا ہے، کیونکہ دراصل یہ تمہیں نہیں جھٹلاتے، بلکہ یہ ظالم اللہ کی آیتوں کا انکار کرتے ہیں (٩)

تفسیر تیسیر الرحمن لبیان القرآن - محمد لقمان سلفی صاحب

(36) اہل مکہ جب نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی تکذیب کرتے، اور کفر وعناد میں حد سے تجاوز کرتے تو آپ کو بہت زیادہ تکلیف ہوتی اور غم وحزن میں مبتلا ہوجاتے اللہ تعالیٰ نے آپ کا یہ حال دیکھ کر اس آیت میں تسلی دی ہے۔ اور اللہ کے نزدیک آپ کا جو عظیم مقام ہے، اسے بتایا ہے، کہ اہل کفر جو کچھ آپ کے ساتھ برامعاملہ کررہے ہیں، تو درحقیقت وہ اللہ کے ساتھ برا معاملہ کررہے ہیں، اور ان سے شدید ترین انتقام لے کر رہے گا، علامہ ابو السعود نے اپنی تفسیر میں لکھا ہے کہ یہ آیت دلیل ہے اس بات کی کہ نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) اللہ تعالیٰ کے نزدیک اتنا بلند وبالا ہے کہ اس کے بعد کوئی مقام نہیں، اسی وجہ سے اللہ تعالیٰ نے اپنے نبی کی تکذیب کو اپنی آیتوں کی تکذیب قرار دیا بلکہ نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی تکذیب کی نفی کردی اور اپنی آیتوں کی تکذیب ثابت کی۔