سورة الانعام - آیت 11

قُلْ سِيرُوا فِي الْأَرْضِ ثُمَّ انظُرُوا كَيْفَ كَانَ عَاقِبَةُ الْمُكَذِّبِينَ

ترجمہ ترجمان القرآن - مولانا ابوالکلام آزاد

(ان کافروں سے) کہو کہ : ذرا زمین میں چلو پھرو، پھر دیکھو کہ (پیغمبروں کو) جھٹلانے والوں کا کیسا انجام ہوا؟ (٥)

تفسیر تیسیر الرحمن لبیان القرآن - محمد لقمان سلفی صاحب

اس آیت میں آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) اور مومنوں کے لیے دنیا میں نصرت وفتحیابی کا وعدہ، اور آخرت میں اچھے انجام کی خوشخبری بھی ہے چناچہ ایسا ہی ہوا کہ ذلت ورسوائی اور قتل وہلاکت کفار مکہ کی قسمت بن گئی اور نبی کر یم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) اور مسلمانوں کے عزت وغلبہ نصیب ہوا۔ اللہ تعالیٰ نے نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کو کہا کہ اگر کفار مکہ قرآن مجید میں مذکور ہلاک شدہ قوموں کے واقعات میں شبہ کرتے ہیں تو آپ ان سے کہہ دیجئے کہ زمین میں گھوم کر انبیاء کو جھٹلانے والی قوموں کا حال معلوم کرلو کہ کس طرح اللہ نے ہلاک کردیا۔ گذشتہ آیت میں نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کو جو تسلی دی گئی ہے اس کا تتمیہ ہے اور اس بات کی تاکید ہے کہ ان کافروں کا انجام بھی پہلوں جیسا ہوگا، چناچہ اللہ کا یہ وعدہ بدر میں پورا ہوا۔