سورة المآئدہ - آیت 94

يَا أَيُّهَا الَّذِينَ آمَنُوا لَيَبْلُوَنَّكُمُ اللَّهُ بِشَيْءٍ مِّنَ الصَّيْدِ تَنَالُهُ أَيْدِيكُمْ وَرِمَاحُكُمْ لِيَعْلَمَ اللَّهُ مَن يَخَافُهُ بِالْغَيْبِ ۚ فَمَنِ اعْتَدَىٰ بَعْدَ ذَٰلِكَ فَلَهُ عَذَابٌ أَلِيمٌ

ترجمہ ترجمان القرآن - مولانا ابوالکلام آزاد

اے ایمان والو ! اللہ تمہیں شکار کے کچھ جانوروں کے ذریعے ضرور آزمائے گا جو تمہارے ہاتھوں اور تمہارے نیزوں کی زد میں آجائیں گے، (٦٥) تاکہ وہ یہ جان لے کہ کون ہے جو اسے دیکھے بغیر بھی اس سے ڈرتا ہے۔ پھر جو شخص اس کے بعد بھی حد سے تجاوز کرے گا وہ دردناک سزا کا مستحق ہوگا۔

تفسیر تیسیر الرحمن لبیان القرآن - محمد لقمان سلفی صاحب

(114) اس آیت کریہا میں اللہ تعالیٰ نے اپنے مومن بندوں کے خطاب کرکے فرمایا ہے کہ وہ انہیں آزمائے گا، تاکہ فرمانبردار اور غیر فرمانبردار دونوں طرح کے لوگوں کا پتہ لگ جائے اسی لیے اللہ تعالیٰ نے ان کے اوپر حالت احرام میں شکار کرنے کو حرام قرار دیا ہے پھر حالت ایسی کردی کہ چھوٹے بڑے شکار ان کے دائیں بائیں پھر نے لگے تاکہ اللہ دیکھ لے کہ کون اس کا حکم مان کر انہیں نہیں چھڑتا، اور کون اس کی نافرمانی کرتا ہے۔ ابن حبان نے لکھا ہے کہ یہ آیت عمرہ حدیبیہ کے بارے میں نازل ہوئی تھی، جب جنگلی جانور، چڑیا اور شکار کے دوسرے جانور ان کے خیمہ کے پاس اس کثرت سے آنے لگے کہ انہوں نے ایسا کبھی بھی نہیں دیکھا تھا، تو اللہ تعالیٰ نے بطور آزمائش حالت احرام میں انہیں قتل کرنے سے منع فرما دیا۔