سورة المآئدہ - آیت 50

أَفَحُكْمَ الْجَاهِلِيَّةِ يَبْغُونَ ۚ وَمَنْ أَحْسَنُ مِنَ اللَّهِ حُكْمًا لِّقَوْمٍ يُوقِنُونَ

ترجمہ ترجمان القرآن - مولانا ابوالکلام آزاد

بھلا کیا یہ جاہلیت کا فیصلہ حاصل کرنا چاہتے ہیں؟ حالانکہ جو لوگ یقین رکھتے ہوں ان کے لیے اللہ سے اچھا فیصلہ کرنے والا کون ہوسکتا ہے ؟

تفسیر تیسیر الرحمن لبیان القرآن - محمد لقمان سلفی صاحب

74۔ ان لوگوں کی تردید ہے جو اللہ کی شریعت کو چھوڑ کر جس میں ہر بھلائی ہے، انسانوں کے وضع کردہ افکار و نظریات اور قوانین و احکام کی پیروی کرتے ہیں۔ حافظ ابن کثیر نے لکھا ہے کہ جو لوگ دستور و قانون کی کوئی کتاب اپنی طرف سے وضع کر کے اس پر عمل کرتے ہیں اور اللہ کی کتاب اور رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی سنت کو پس پشت ڈال دیتے ہیں، وہ کافر ہیں۔ ان کے خلاف جنگ کرنی واجب ہے۔ امام بخاری (رح) نے ابن عباس (رض) سے روایت کی ہے کہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا۔ تین قسم کے لوگ اللہ کے نزدیک مبغوض ترین ہیں۔ حدود حرم میں الحاد کو پسند کرنے والا، اسلام کے بعد دور جاہلیت کے طریقے کو اپنانے والا، اور وہ انسان جو ناحق کسی دوسرے کا خون بہانا چاہتا ہو۔