سورة البقرة - آیت 63

وَإِذْ أَخَذْنَا مِيثَاقَكُمْ وَرَفَعْنَا فَوْقَكُمُ الطُّورَ خُذُوا مَا آتَيْنَاكُم بِقُوَّةٍ وَاذْكُرُوا مَا فِيهِ لَعَلَّكُمْ تَتَّقُونَ

ترجمہ ترجمان القرآن - مولانا ابوالکلام آزاد

اور پھر (اپنی تاریخ حیات کا وہ وقت بھی یاد کرو) جب ہم نے تم سے تمہارا عہد لیا تھا اور (یہ ووہ وقت تھا کہ تم نیچے کھڑے تھے اور) کوہ طور کی چوٹیاں تم پر بلند کردی تھیں : (دیکھو) جو کتاب تمہیں دی گئی ہے اس پر مضبوطی کے ساتھ جم جاؤ اور جو کچھ اس میں بیان کیا گیا ہے اسے ہمیشہ یاد رکھو۔ (اور یہ اس لیے ہے) تاکہ تم (نافرمانی سے بچو۔

تفسیر تیسیر الرحمن لبیان القرآن - محمد لقمان سلفی صاحب

١١٥: یہود سے اللہ تعالیٰ کے خطاب کا باقی حصہ ہے، اللہ نے جب ان سے تورات اور اس کی تعلیمات کی حفاظت کا عہد و پیمان لینا چاہا تو اپنی قدرت کا مظاہرہ کرنے کے لیے طور پہاڑ کو ان کے سر کے اوپر اٹھا دیا، اور کہا کہ اسے پوری قوت اور مضبوطی کے ساتھ سنبھالو، اور اس کے اوامر و نواہی پر عمل پیرا ہونے کے لیے صبر سے کام لو۔ انہوں نے اس وقت عہد تو کرلیا، لیکن بعد میں اس کا کوئی خیال نہیں رکھا، اور اسے توڑ ڈالا، انجام تو یہ ہونا چاہئے تھا کہ اللہ کا عذاب ان کو پکڑ لیتا، لیکن اللہ نے ان پر رحم کیا اور ان کی رہنمائی کے لیے انبیاء و رسل بھیجے کہ شاید وہ راہ راست پر آجائیں۔