سورة البقرة - آیت 57

وَظَلَّلْنَا عَلَيْكُمُ الْغَمَامَ وَأَنزَلْنَا عَلَيْكُمُ الْمَنَّ وَالسَّلْوَىٰ ۖ كُلُوا مِن طَيِّبَاتِ مَا رَزَقْنَاكُمْ ۖ وَمَا ظَلَمُونَا وَلَٰكِن كَانُوا أَنفُسَهُمْ يَظْلِمُونَ

ترجمہ ترجمان القرآن - مولانا ابوالکلام آزاد

اور (پھر جب ایسا ہوا تھا کہ صحراسینا کی بے آب و گیاہ سرزمین میں دھوپ کی شدت اور غزا کے نہ ملنے سے تم ہلاک ہوجانے والے تھے تو) ہم نے تمہارے سروں پر ابر کا سایہ پھیلادیا اور من اور سلوی کی غذا فراہم کردی (تم سے کہا گیا :) خدا نے تمہاری غذا کے لیے جو اچھی چیزیں مہیا کردی ہیں انہیں بفراغت کھاؤ اور کسی طرح کی تنگی محسوس نہ کرو (لیکن اس پر بھی تم اپنی بدعملیوں سے باز نہ آئے۔ غور کرو) تم نے (اپنی ناشکریوں سے) ہمارا کیا بگاڑا؟ خود اپنا ہی نقصان کرتے رہے

تفسیر تیسیر الرحمن لبیان القرآن - محمد لقمان سلفی صاحب

١٠٩: اللہ تعالیٰ نے بنی اسرائیل کو حکم دیا کہ ان کافر عمالقہ کے خلاف جہاد کریں جو بیت المقدس پر قابض ہیں تو انہوں نے انکار کردیا، اور نہایت پست ہمتی کا ثبوت دیا، اللہ تعالیٰ نے بطور سزا انہیں میدان تیہ میں پھینک دیا، جہاں وہ چالیس سال تک بھٹکتے رہے۔ اس طویل مدت کے بعد یوشع بن نون (علیہ السلام) کے ساتھ وہاں سے نکلے، اور بیت المقدس کو فتح کیا، جب وہ لوگ میدان تیہ میں زندگی گذار رہے تھے تو اللہ نے ایک سفید بادل کو ان کے سروں پر لا کر ٹھہرا دیا تاکہ آفتاب کی تمازت سے بچے رہیں، اور کھانے کے (من و سلوی) دیا۔ من شبنم کی ماند ایک چیز تھی جو آسمان سے اترتی تھی اور درختوں اور پتھروں پر جم جاتی تھی، اور مزے میں شہد کی مانند میٹھی تھی، نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا کہ کماۃ (سانپ کی چھتری)، من کی ایک قسم ہے جسے اللہ نے بنی اسرائیل کے لیے اتارا تھا، سلوی، بٹیر کے مشابہ ایک چڑھیا تھی۔ ١١٠: اللہ تعالیٰ نے تو من و سلوی جیسی نعمتوں کو ان کے لیے حلال بنا دیا تھا تاکہ کھائیں پئیں اور اللہ کی عبادت کریں، لیکن نافرمانی اور سرکشی ان کی سرشت بن چکی تھی، اظہار بے صبری وناراضگی، بے ادبی، شکوہ و شکایت اور اللہ کی ناشکری ان کا شیوہ ہوچکی تھی، اس لیے اللہ کے عذاب کے مستحق بنے