سورة النسآء - آیت 147

مَّا يَفْعَلُ اللَّهُ بِعَذَابِكُمْ إِن شَكَرْتُمْ وَآمَنتُمْ ۚ وَكَانَ اللَّهُ شَاكِرًا عَلِيمًا

ترجمہ ترجمان القرآن - مولانا ابوالکلام آزاد

(لوگو !) اگر تم شکر کرو، (یعنی خدا کی نعمتوں کی قدر کرو اور انہیں ٹھیک ٹھیک کام میں لاؤ) اور خدا پر ایمان رکھو تو خدا کو تمہیں عزاب دے کر کیا کرنا ہے؟ (یعنی وہ کیوں تمہیں عزاب دے) خدا تو (انسانی اعمال کا) قدر شناس اور (ان کی حالت کا) علم رکھنے والا ہے۔

تفسیر تیسیر الرحمن لبیان القرآن - محمد لقمان سلفی صاحب

139۔ یہاں مقصود یہ بتانا ہے کہ عذاب کا دار و مدار کفر پر ہے کسی اور چیز پر نہیں۔ اللہ تمہیں عذاب دے کر کیا کرے گا، وہ تو بے نیاز ہے، عذاب تو صرف تمہارے کفر کا نتیجہ ہے۔ اس لیے اگر ایمان و شکر کے ذریعہ کفر کی نفی ہوجائے گی تو عذاب بھی باقی نہیں رہے گا، اس لیے کہ جو اللہ کا شکر ادا کرتا ہے، اور دل سے ایمان لے آتا ہے، تو اللہ کو اس کا علم ہوتا ہے، اس لیے اسے اس کا بہترین اجر عطا کرتا ہے۔