سورة النسآء - آیت 142

إِنَّ الْمُنَافِقِينَ يُخَادِعُونَ اللَّهَ وَهُوَ خَادِعُهُمْ وَإِذَا قَامُوا إِلَى الصَّلَاةِ قَامُوا كُسَالَىٰ يُرَاءُونَ النَّاسَ وَلَا يَذْكُرُونَ اللَّهَ إِلَّا قَلِيلًا

ترجمہ ترجمان القرآن - مولانا ابوالکلام آزاد

منافق (اپنی اس دورنگی چال سے) خدا کو دھوکا دے رہے ہیں (یعنی خدا کے رسول کو اور مسلمانوں کو دھوکے میں رکھنا چاہتے ہیں) اور (واقعہ یہ ہے کہ) خدا انہیں دھوکا دینے میں ہرا رہا ہے اور مغلوب کر رہا ہے (کہ مہلت پر مہلت دے رہا ہے اور اس عارضی ہلت کو وہ جہل و غرور سے اپنی کامیابی سمجھ رہے ہیں) اور جب یہ نماز کے لیے کھڑے ہوتے ہیں، تو کاہلی کے ساتھ کھڑے ہوتے ہیں (جیسے کوئی مارے باندھے کھڑا ہوجائے) محض لوگوں کو دکھانے کے لیے نماز پڑھتے ہیں۔ اور اللہ کا ذکر نہیں کرتے (یعنی تلاوت نہیں کرتے) مگر برائے نام۔

تفسیر تیسیر الرحمن لبیان القرآن - محمد لقمان سلفی صاحب

135۔ اس آیت میں بھی منافقین کے بعض اعمال قبیحہ کو بیان کیا گیا ہے۔ اللہ تعالیٰ نے فرمایا کہ منافقین اللہ کو دھوکہ دینا چاہتے ہیں، اپنی زبان سے تو ایمان کا اظہار کرتے ہیں لیکن دل میں کفر چھپائے ہوتے ہیں، اور اپنی کم عقلی اور نادانی کی وجہ سے سمجھتے ہیں کہ جس طرح دنیا میں مسلمانوں کو دھوکہ دے رکھا ہے اور ان کی جان و مال محفوظ رہے، اسی طرح آخرت میں بھی عذاب سے بچ جائیں گے، تو اللہ تعالیٰ بھی ان کے ساتھ ویسا ہی برتاؤ کرتا ہے، کہ دنیا میں ان کی رسی ڈھیل دیتا ہے، اور انہیں ان کے حال پر چھوڑ دیتا ہے، اور اس طرح ان کی جان اور ان کا مال محفوظ رہتا ہے تاکہ دھوکہ میں پڑے رہیں، اور ااخرت میں ان کا ٹھکانا جہنم کی سب سے نچلی کھائی ہوگی۔ ان کی ایک صفت یہ بھی ہے کہ جب نماز کے لیے آتے ہیں تو بوجھل جسم کے ساتھ کھڑے ہوتے ہیں۔ جیسے کسی نے انہیں اس کام پر مجبور کیا ہو، اس لیے کہ ان کی نیت نماز کی نہیں ہوتی، اور نہ اس پر ان کا ایمان ہوتا ہے، اور نہ ہی نماز کے ارکان و اعمال پر وہ غور و خوض کرتے ہیں۔ ان کا مقصد تو لوگوں کو دکھلانا ہوتا ہے تاکہ انہیں مسلمان سمجھا جائے، وہ اپنی نمازوں میں بہت کم اللہ کو یاد کرتے ہیں، نہ وہ خشوع و خضوع اختیار کرتے ہیں، اور نہ ان کو پتہ ہوتا ہے کہ وہ زبان سے کیا پڑھ رہے ہیں۔ حافظ ابن مردویہ نے ابن عباس (رض) کا قول نقل کیا ہے کہ یہ بات بری ہے کہ آدمی نماز میں سست کھڑا ہو، بلکہ اسے خوش و خرم اور شاداب چہرے کے ساتھ نماز پڑھنی چاہئے، اس لیے کہ بندہ نماز میں اپنے رب کے ساتھ سرگوشی کرتا ہے، اور اللہ تعالیٰ اس کے سامنے ہوتا ہے، اور جب اسے پکارتا ہے تو اس کی پکار سنتا ہے حاکم کہتے ہیں، یہ آیت دلیل ہے کہ نماز میں سستی کرنا منافق کی نشانی ہے، صحیحین میں ہے کہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا، منافقین پر سب سے بھاری نماز عشاء اور فجر کی نماز ہے۔ اور امام مالک نے مؤطا میں انس بن مالک (رض) سے روایت کی ہے، رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا کہ وہ منافقین کی نماز ہے وہ منافقین کی نماز ہے کہ آدمی بیٹھا رہے اور جب آفتاب زرد ہوجائے اور شیطان کی دو سینگوں کے درمیان پہنچ جائے تو اٹھے اور چار ٹھوکریں مار لے اور ان میں اللہ کو بہت ہی کم یاد کرے