سورة النسآء - آیت 137

إِنَّ الَّذِينَ آمَنُوا ثُمَّ كَفَرُوا ثُمَّ آمَنُوا ثُمَّ كَفَرُوا ثُمَّ ازْدَادُوا كُفْرًا لَّمْ يَكُنِ اللَّهُ لِيَغْفِرَ لَهُمْ وَلَا لِيَهْدِيَهُمْ سَبِيلًا

ترجمہ ترجمان القرآن - مولانا ابوالکلام آزاد

جن لوگوں کا حال یہ ہے کہ وہ ایمان لائے، پھر کفر میں پڑگئے، پھر ایمان لائے، پھر کفر میں پڑگئے، اور پھر برابر کفر میں بڑھتے ہی گئے (تو فی الحقیقت ان کا ایمان لانا ایمان لانا، نہ تھا) اللہ انہیں بخشنے والا نہیں اور ہرگز ایسا نہ ہوگا کہ (کامیابی کی) انہیں کوئی راہ دکھائے۔

تفسیر تیسیر الرحمن لبیان القرآن - محمد لقمان سلفی صاحب

131۔ اس آیت کریمہ میں اللہ تعالیٰ نے ان لوگوں کے بارے میں اللہ تعالیٰ نے ان لوگوں کے بارے میں خبر دی ہے جو پہلے ایمان لائے پھر کفر کو قبول کرلیا، پھر ایمان لائے پھر کافر ہوگئے، اور کفر میں بڑھتے ہی گئے کہ اللہ تعالیٰ ان کے گناہوں کو معاف نہیں کرے گا، اور نہ حق و صداقت کی طرف ان کی رہنمائی کرے گا، کیونکہ یہ بات بعید از قیاس معلوم ہوتی ہے کہ وہ اللہ کے لیے مخلص اور مومن صادق بن جائیں گے، اس لیے کہ کبھی ایمان کا دعوی کرنا، اور پھر اس کا انکار کردینا، اور بار بار اپنے ماضی کی طرف لوٹ جانا، اس بات کی غمازی کرتا ہے کہ انہوں نے دین کو کھلونا بنا رکھا ہے، ان کی نیت صحیح نہیں ہے۔ بعض لوگوں کا خیال ہے کہ ان سے مراد یہود ہیں جو پہلے تو موسیٰ (علیہ السلام) پر ایمان لائے، پھر بچھڑے کی پوجا کر کے کفر و شرک کا ارتکاب کیا۔ پھر موسیٰ کی واپسی کے بعد ان پر ایمان لے آئے، لیکن پھر عیسیٰ علیہ السلا کے زمانہ میں کفر کے مرتکب ہوگئے، اور جب رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) مبعوث ہوئے تو ان کا انکار کر کے اپنے کفر کی تابوت میں آخری کیل ٹھوک دی۔ اور تادم حیات اس کفر پر جمے رہے۔ آیت میں منافقین یا یہود کے اسی تذبذب ایمانی کا بیان ہے، عام کفار مراد نہیں ہیں، اس لیے کہ کافر اگر ایمان لے آئے اور اللہ کے لیے مخلص اور صادق الایمان بن جائے تو اللہ تعالیٰ اس کی مغفرت کا وعدہ کرتا ہے، اور اسلام گذشتہ کفر کو ختم کردیتا ہے