سورة النسآء - آیت 131

وَلِلَّهِ مَا فِي السَّمَاوَاتِ وَمَا فِي الْأَرْضِ ۗ وَلَقَدْ وَصَّيْنَا الَّذِينَ أُوتُوا الْكِتَابَ مِن قَبْلِكُمْ وَإِيَّاكُمْ أَنِ اتَّقُوا اللَّهَ ۚ وَإِن تَكْفُرُوا فَإِنَّ لِلَّهِ مَا فِي السَّمَاوَاتِ وَمَا فِي الْأَرْضِ ۚ وَكَانَ اللَّهُ غَنِيًّا حَمِيدًا

ترجمہ ترجمان القرآن - مولانا ابوالکلام آزاد

اور (مسلمانو ! یاد رکھو) آسمانوں میں اور زمین میں جو کچھ ہے، سب اللہ ہی کے لیے ہے (اس کے سوا کوئی نہیں) ہم نے یقینا ان لوگوں کو جنہیں تم سے پہلے کتاب دی گئی۔ اور (اسی طرح) خود تم کو بھی، یہ حکم دیا کہ اللہ (کی نافرمانی کے نتائج) سے ڈرو (اور احکام حق کی پیروی کرو) اور اگر (اس کا حکم) نہ مانو گے سو (اس سے اس کی خدائی کا تو کچھ نقصان ہونے والا نہیں۔ تم خود ہی نقصان اٹھاؤگے) آسمانوں میں اور زمین جو کچھ ہے سب اللہ ہی کے لیے ہے۔ وہ بے نیاز ہے، ساری ستائشوں سے ستودہ۔

تفسیر تیسیر الرحمن لبیان القرآن - محمد لقمان سلفی صاحب

127۔ آیات 131، 132، 133 میں اللہ تعالیٰ نے تین باتوں کے بیان کے ساتھ تینوں بار اپنے لیے آسمانوں اور زمین کی ملکیت کا ذکر کیا ہے، اور اپنی قدرت مطلقہ اور مکمل بے نیازی ثابت کی ہے۔ آیت 130 میں شوہر اور بیوی دونوں کو خوش اسلوبی کے ساتھ جدا ہونے کی صورت میں استغناء اور دوسرے اچھے رشتہ کا وعدہ کیا ہے، اس لیے کہ آسمانوں اور زمین میں جو کچھ ہے، سب اسی کی ملکیت ہے، آیت 131 میں اللہ نے فرمایا کہ ہم نے گذشتہ اہل کتاب کو تقوی کی وصیت کی تھی، اور اے مومنو ! تمہیں بھی وصیت کرتے ہیں کہ اللہ سے ڈرو، اور کفر کر کے تم اس کا کچھ نہ بگار لوگے، اس لیے کہ آسمانوں اور زمین میں جو کچھ ہے، سب اسی کی ملکیت ہے، وہ ہر چیز سے کامل طور پر بے نیاز ہے، آیات 132 133 میں سہ بارہ اللہ نے فرمایا کہ آسمانوں اور زمین میں جو کچھ ہے سب اس کی ملکیت ہے، اس لیے اگر اللہ چاہے تو تمہیں فنا کے گھاٹ اتار دے اور کسی دوسری قوم کو لے آئے یا انسان کی جگہ کسی دوسری مخلوق کو لے آئے، اے انسانو ! تمہاری نافرمانیوں کے باوجود اللہ نے جو تمہیں زندہ باقی رکھا ہے تو اس لیے نہیں کہ وہ تمہیں فنا کرنے سے عاجز ہے، وہ تو تمہیں کسی وقت بھی یکسر نیست و نابود کرنے کی پوری قدرت رکھتا ہے، اس نے تمہیں اس لیے زندہ چھوڑ رکھا ہے کہ وہ تمہاری بندگی سے مکمل طور پر بے نیاز ہے، اور تمہاری نافرمانی سے اس کی عزت و شان میں کوئی نقص نہیں واقع ہوتا ہے۔