سورة النسآء - آیت 114

۞ لَّا خَيْرَ فِي كَثِيرٍ مِّن نَّجْوَاهُمْ إِلَّا مَنْ أَمَرَ بِصَدَقَةٍ أَوْ مَعْرُوفٍ أَوْ إِصْلَاحٍ بَيْنَ النَّاسِ ۚ وَمَن يَفْعَلْ ذَٰلِكَ ابْتِغَاءَ مَرْضَاتِ اللَّهِ فَسَوْفَ نُؤْتِيهِ أَجْرًا عَظِيمًا

ترجمہ ترجمان القرآن - مولانا ابوالکلام آزاد

ان لوگوں کے پوشیدہ مشوروں میں سے اکثر مشورے بھلائی کے لیے نہیں ہوتے۔ ہاں جو کوئی خیرات کے لیے یا کسی نیک کام کے لیے حکم دے، یا لوگوں کے درمیان صلح صفائی کرادینا چاہے (اور اس میں پوشیدگی ملحوظ رکھے تو البتہ یہ نیکی کی بات ہے) اور جو کوئی خدا کی خوشنودی کی طلب میں اس طرح کے کام کرتا ہے، تو ہم اسے بہت بڑا اجر عطا فرمائیں گے

تفسیر تیسیر الرحمن لبیان القرآن - محمد لقمان سلفی صاحب

112۔ اس آیت کریمہ کا تعلق بھی بنی ابیرق ہی کے واقعہ سے ہے کہ اصل چور کو سزا اور عار سے بچانے کے لیے اس کے حمایتی آپس میں سرگوشیاں کرتے تھے۔ لیکن تفسیر کے قاعدے کے مطابق آیت کا حکم اور معنی عام ہے، کہ عام طور پر لوگوں کی سرگوشیوں میں کوئی خیر اور بھلائی نہیں ہوتی، بھلائی صرف اس سرگوشی میں ہوتی ہے جس سے مقصود کوئی خیر کا کام کرنا ہو، جس کی صراحت یہاں اللہ تعالیٰ نے بطور استثناء کردی ہے ہی کہ اگر کوئی شخص لوگوں سے چھپا کر صدقہ کرنے کے لیے یا لوگوں کے درمیان اصلاح کرنے کے لیے، یا کسی اور کار خیر کے لیے سرگوشی کرے تو خیر ہے۔ آیت میں ابتغاء مرضات اللہ دلیل ہے کہ ان اعمال کا اجر و ثواب پانے کے لیے شرط یہ ہے کہ ان کاموں سے مقصود اللہ کی رضا حاصل کرنا ہو، ترمذی ابن ماجہ اور حافظ ابن مردویہ نے ام حبیبہ (رض) سے روایت کی ہے کہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا، ابن آدم کی ہر بات اس کے سر پر بوجھ ہوتی ہے، اس کے لیے مفید نہیں ہوتی، سوائے اس کے کہ اللہ کو یاد کرے، کسی بھلائی کا حکم دے یا کسی برائی سے روکے۔