سورة الفاتحة - آیت 6

اهْدِنَا الصِّرَاطَ الْمُسْتَقِيمَ

ترجمہ ترجمان القرآن - مولانا ابوالکلام آزاد

(خدایا) ہم پر (سعادت کی) سیدھی راہ کھول دے

تفسیر تیسیر الرحمن لبیان القرآن - محمد لقمان سلفی صاحب

اللہ تعالیٰ کی حمد و ثنا بیان کرنے، اور اس کے لیے کمال خشوع و خضوع اور اپنی انتہائی محتاجی و مسکنت کے اظہار کے بعد، بندے کے لیے اب یہ بات مناسب معلوم ہوئی کہ اپنا سوال اس کے حضور پیش کرے اور کہے کہ اے اللہ ! صراط مستقیم کی طرف میری رہنمائی کر۔ ہدایت کا معنی : رہنمائی اور توفیق ہے اور صراط مستقیم سے مراد : وہ روشن راستہ ہے جس میں کجی نہ ہو، جو اللہ اور اس کی جنت تک پہنچانے والا ہو۔ اور یہ قرآن و سنت کی راہ ہے۔ مجاہد کہتے ہیں کہ اس سے مراد راہ حق ہے۔ ابو العالیہ سے روایت ہے کہ اس سے مراد نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) اور ان کے بعد ابوبکر اور عمر (رض) ہیں۔ اور حقیقت یہ ہے کہ یہ سبھی اقوال صحیح ہیں، اس لیے کہ جس نے نبی اکرم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی اتباع کی، اور ان کے بعد ان کے صاحبین کی اقتدا کی، اس نے حق کی اتباع کی، اور جس نے حق کی اتباع کی، اس نے اسلام کی اتباع کی، اور جس نے اسلام کی اتباع کی اس نے قرآن کی اتباع کی، اور یہی قرآن کریم اللہ کی کتاب ہے، اس کی مضبوط رسی ہے، اور اس کی سیدھی راہ ہے۔ نواس بن سمعان (رض) نے رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) سے روایت کی ہے کہ اللہ تعالیٰ نے صراط مستقیم (سیدھی راہ) کی ایک مثال بیان کی ہے، اس راہ کے دونوں جانب دو دیواریں ہیں، ان میں کچھ دروازے کھول دئیے گئے ہیں۔ ان دروازوں پر پردے لٹکا دئیے گئے ہیں، اور سیدھی راہ پر ایک پکارنے والا کہہ رہا ہے۔ اے لوگو سیدھی راہ پر گامزن ہوجاؤ اور اس سے انحراف نہ کرو۔ ایک اور پکارنے والا سیدھی راہ کے اوپر سے پکار رہا ہے، جب کوئی آدمی ان دروازوں میں سے کوئی دروازہ کھولنا چاہتا ہے تو وہ کہتا ہے، دیکھو اسے نہ کھولو، اگر تم نے اسے کھول دیا، تو اس میں داخل ہوجاؤ گے۔ وہ سیدھی راہ، اسلام، ہے۔ دونوں دیواریں اللہ کے مقرر کردہ حدود ہیں کھولے گئے دروازے اللہ کے حرام کردہ امور ہیں۔ اور سیدھی راہ کے سرے پر موجود پکارنے والا اللہ کی کتاب ہے، اور سیدھی راہ کے اوپر سے پکارنے والا، اللہ کی طرف سے ہر مسلمان کے دل میں موجود خیر کی دعوت دینے والا جذبہ ہے (مسند احمد، ترمذی، نسائی)۔ مفسرین نے لکھا ہے کہ بندہ مومن ہدایت پر ہونے کے باوجود، اس کا محتاج ہے کہ وہ ہر نماز میں اللہ سے رشد و ہدایت کا سوال کرتا رہے، تاکہ اللہ تعالیٰ اسے صراط مستقیم پر ثابت قدم رکھے اور دوام و استمرار بخشے، اس لیے آیت کا معنی یہ ہوگا کہ اے اللہ ! ہمیں صراط مستقیم پر قائم رکھ، اور اس کے علاوہ کسی اور راہ کی طرف نہ پھیر دے۔ امام راغب اصفہانی اپنی تفسیر میں لکھتے ہیں کہ ہدایت کا معنی قول و عمل میں اچھائیوں اور بھلائیوں کی طرف رہنمائی کرنا ہے۔ اور اللہ کی طرف سے اس کا ظہور کئی منازل میں ہوتا ہے جو ایک دوسرے کے بعد بالترتیب حاصل ہوتے ہیں اس کی پہلی منزل یہ ہے کہ اللہ تعالیٰ اپنے بندے کو وہ قوتیں عطا کرتا ہے جن کی بدولت وہ اپنے منافع و مصالح تک پہنچ پاتا ہے، جسے انسان کے حواس خمسہ اور اس کی فکری قوت سے تعبیر کیا جاسکتا ہے۔ اللہ تعالیٰ نے فرمایا اعطی کل شیء خلقہ ثم ھدی، یعنی اللہ نے ہر چیز کو پیدا کیا پھر اس کی رہنمائی کی (طہ، 50)۔ اس کی دوسری منزل انبیاء کی بعثت اور دعوت الی اللہ ہے۔ اللہ تعالیٰ نے فرمایا، وجعلنا منہم ائمۃ یھدون بامرنا۔ اور ہم نے ان میں اماموں کو پیدا کیا جو ان کی رہنمائی کرتے ہیں (سجدہ :24)۔ تیسری منزل : وہ روشنی ہے جو اللہ تعالیٰ اپنے نیک بندوں کو کثرت عبادت و عمل خیر کے سبب عطا فرماتا ہے۔ اللہ تعالیٰ نے فرمایا، والذین جاہدوا فینا لنہدینہم سبلنا۔ اور جو لوگ ہماری راہ میں جدو جہد کرتے ہیں ہم اپنی راہ کی طرف ان کی رہنمائی کرتے ہیں (الانعام :190)۔ چوتھی منزل۔ دخول جنت کو ممکن بنانا ہے۔ اللہ تعالیٰ نے فرمایا و نزعنا ما فی صدورھہم من غل تجری من تحتہم الانہار وقالوا الحمد للہ ھدانا لہذا۔ یعنی ہم نے ان کے دلوں سے کینہ کو نکال دیا، جنت میں ان کے نیچے نہریں جاری ہوں گی، اور وہ کہیں گے کہ ساری تعریفیں اس اللہ کے لیے ہیں جس نے اس جنت کی طرف ہماری رہنمائی کی۔ (الاعراف :43)۔ قرآن کریم کی آیات کے تتبع سے یہ معلوم ہوتا ہے کہ ہدایت بمعنی دعوت و رہنمائی۔ سب کے لیے عام ہے۔ اللہ تعالیٰ نے فرمایا وانک لتھدی الی صراط مستقیم۔ اور آپ صراط مستقیم کی طرف رہنمائی کرتے ہیں (شوری :52)۔ لیکن ہدایت، بمعنی توفیق اور جنت میں داخل کرنا، سب کو نصیب نہیں ہوتا، اللہ تعالیٰ نے فرمایا : انک لا تہدی من احببت ولکن اللہ یہدی من یشاء، یعنی آپ جس کو چاہیں ہدایت نہیں دے سکتے، اللہ تعالیٰ جس کو چاہتا ہے ہدایت دیتا ہے (قصص :56)۔ ہدایت کے مذکورہ بالا معنی کو مد نظر رکھتے ہوئے مفسرین نے اھدنا الصراط المستقیم کی تفسیر کئی طرح سے کی ہے۔ کسی نے کہا کہ ہدایت سے مراد عام ہدایت ہے، اور ہمیں دعا کا حکم اس لیے دیا گیا ہے، تاکہ ہمارے ثواب میں اضافہ ہو، کسی نے اس کی تفصیر کی۔ ہمیں راہ شریعت پر چلنے کی توفیق دے۔ تیسرا قول یہ ہے۔ گمراہ کرنے والوں، شہوتوں اور شبہات سے بچا، چوتھا قول ہے۔ ہمیں مزید ہدایت دے۔ پانچواں قول ہے : ہمیں علم حقیقی (نور) عطا فرما۔ چھٹا قول ہے : ہمیں جنت دے، اور صحیح بات تو یہ ہے کہ یہاں ہدایت کی یہ تمام قسمیں مراد لی جاسکتی ہیں، کیونکہ ان کے درمیان کوئی تعارض نہیں۔ وباللہ التوفیق۔