سورة النسآء - آیت 101

وَإِذَا ضَرَبْتُمْ فِي الْأَرْضِ فَلَيْسَ عَلَيْكُمْ جُنَاحٌ أَن تَقْصُرُوا مِنَ الصَّلَاةِ إِنْ خِفْتُمْ أَن يَفْتِنَكُمُ الَّذِينَ كَفَرُوا ۚ إِنَّ الْكَافِرِينَ كَانُوا لَكُمْ عَدُوًّا مُّبِينًا

ترجمہ ترجمان القرآن - مولانا ابوالکلام آزاد

اور اگر (جنگ کے لیے) تم سفر میں نکلو اور تمہیں اندیشہ ہو کہ کافر تمہیں کسی مصیبت میں نہ ڈال دیں تو تم پر کچھ گناہ نہیں، اگر نماز (کی تعداد) میں سے کچھ کم کردو۔ بلاشبہ کافر تمہارے کھلے دشمن ہیں (وہ جب موقع پائیں گے تم پر حملہ کردیں گے)

تفسیر تیسیر الرحمن لبیان القرآن - محمد لقمان سلفی صاحب

106۔ چونکہ ہجرت بغیر سفر کے ناممکن تھی، اسی لیے ہجرت کے احکام کے ساتھ سفر میں نماز کا حکم بیان کرنا مناسب ہوا، کہ مسلمان جب سفر میں ہوں تو چار رکعت والی نمازیں دو رکعت پڑھیں اور آیت میں فلیس علیکم جناح یعنی تمہارے لیے کوئی حرج نہیں ہے سے جمہور نے استدلال کیا ہے کہ سفر میں قصر کرنا سنت ہے، واجب نہیں، مسلم، احمد، ابو داود اور ترمذی نے یعلی بن امیہ سے روایت کی ہے کہ حضرت عمر رضٰ اللہ عنہ نے رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) سے اس آیت کے بارے میں پوچھا کیا امن ہوجانے کے بعد بھی نماز قصر پڑھی جائے گی؟ تو آپ نے فرمایا یہ اللہ کا صدقہ ہے، مسلمان اسے قبول کریں، اور رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کا عمل بھی یہی تھا کہ سفر میں آپ نے بغیر حالت خوف کے قصر کیا، اسی لیے علماء نے کہا ہے کہ ان خفتم اگر خوف ہو تو قصر کرو، کی قید اس زمانہ میں مسلمانوں کا حال بیان کرنے کے لیے ہے، ورنہ قصر ہر سفر میں جائز ہے۔ ترمذی، نسائی اور ابن ابی شیبہ نے ابن عباس (رض) سے روایت کی ہے کہ نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) مدینہ منورہ سے سفر کے لیے نکلے، اور انہیں رب العالمین کے علاوہ کسی کا خوف نہیں تھا، اور آپ نے دو دو رکعت نماز پڑھی اور بخاری اور دوسرے محدثین نے انس (رض) سے روایت کی ہے کہ ہم لوگ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے ساتھ مدینہ سے مکہ کے لیے روانہ ہوئے، اور آپ دو دو رکعت نماز پڑھتے رہے، یہاں تک کہ ہم مدینہ لوٹ کر آگئے۔